اسرائیل کی شام کی "لحد فورس" کے لئے کوشش - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 10 جولائی, 2017
0

اسرائیل کی شام کی "لحد فورس” کے لئے کوشش

جنوب میں مستحکم جنگ بندی – بحران کے حل سے قبل ٹرمپ کی جانب سے روس پر سے پابندیاں اٹھانا خارج از امکان

اسرائیلی فوجی شام کی سرحد پر واقع قنیطرہ نامی دیہات کے قریب لڑائی کا معاینہ کرتے ہوئے (ا.ب.ا)

 

تل ابيب: نظير مجلی – عمان: محمد الدعمة

      اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ صدی میں ستر کی دہائی کے وسط میں سعد حداد کی قیادت میں تل ابیب کی جانب سے "جنوبی لبنان فورس” کی بنیاد رکھی گئی اور پھر ان کے بعد اس کی قیادت جنرل انطوان لحد نے سنبھالی، اب اسی طرز پر تل ابیب "جنوبی شامی فورس” کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ (اسرائیلی) فوج کا (مقبوضہ) جولان اور اردن کی سرحد کے ساتھ شام کے جنوبی علاقے میں تعیناتی کا مشن ہے تاکہ خطے میں ایران کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

      اسرائیلی ذرائع نے یقین دہانی کی ہے کہ ان افواج کا ہدف حزب اللہ کی افواج اور ایران نواز یونٹس کو جولان کے پہاڑی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے سے باز رکھنا ہے۔ "داعش” کے خلاف جنگ کے ختم کونے اور امریکی افواج کے علاقے سے جانے کے بعد خطے میں ایک خلا پیدا ہو جائے گا جسے روسی افواج ہرگز نہیں بھر سکیں گی۔

پیر – 16 شوال 1438 ہجری – 10 جولائی 2017ء  شمارہ: (14104)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>