خلیجی ممالک سے ٹیلرسون کی خاموش واپسی۔۔۔ قطر کا مسئلہ اپنی سابقہ حالت پر برقرار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 14 جولائی, 2017
0

خلیجی ممالک سے ٹیلرسون کی خاموش واپسی۔۔۔ قطر کا مسئلہ اپنی سابقہ حالت پر برقرار

امریکی وزیر خارجہ دوحہ پہنچتے ہوئے

دمام – ابو ظبی: "الشرق الاوسط”

        کل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسون خلیجی ممالک کے اس دورہ سے واپ ہو چکے ہیں جو دورہ انہوں نے قطر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی صحافتی بیان بھی نہیں دیا ہے جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے تھوڑے سے وقفہ کے بعد ذکر کیا ہے کہ ٹیلرسون نے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے جانبین کو براہ راست گفتگو کرنے پر آمادہ کیا ہے اور وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں اگلا اقدام بہت ہی اہم ہوگا۔

        ابھی قطر کا مسئلہ اپنی سابقہ حالت پر برقرار ہے۔ اس کا کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔ اس سلسلہ میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر کا دورہ مبہم اور پیچیدہ ہے کیونکہ اس دورہ سے سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کے وہ خدشات دور نہیں ہو سکے ہیں جو قطر کی موجودہ سیاست میں ایک علاقائی فساد وبگاڑ کی صورت میں موجود ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قطر کا دنیا کے دہشت گرد نیٹ ورکوں کے ساتھ رابطہ ہے۔

جمعہ – 20 شوال 1438 ہجری – 14 جولائی 2017ء  شمارہ: (14108)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>