مصر میں دو خاتون سیاح اور پانچ پولس اہلکار ہلاک - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 15 جولائی, 2017
0

مصر میں دو خاتون سیاح اور پانچ پولس اہلکار ہلاک

کل پولس کے اہلکار قاہرہ کے قریب جیزہ میں ہونے والے اس حملہ کی جگہ کا معائنہ کرتے ہوئے جس میں پانچ پولس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں

قاہرہ: ولی عبد الرحمن

         کل جس وقت دہشت گرد افراد نے جیزہ گورنریٹ میں پولیس کی چوکی پر حملہ کیا تھا اسی وقت طب اور پولس ذرائع نے بتایا ہے کہ چاقو سے جرمن خاتون سیاح کا قتل کر دیا گیا ہے جبکہ دوسرے چار افراد بھی زخمی ہوئے ہیں اور یہ حادثہ بحر احمر کے کنارے پر واقع غردقہ شہر کے دو سیاحتی گاؤں میں ہوا ہے۔

        ان ذرائع نے مزید تفصیل کے ساتھ کہا ہے کہ ایک شخص نے گاؤں کے کنارے چاقو کے ذریعہ دو خاتون سیاح پر حملہ کیا ہے پھر وہ تیرتا ہوا پڑوسی گاؤں کی طرف چلا گیا جہاں اس نے ارمینیاء اور تشکیک کی خاتون سیاحوں پر حملہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس نے ایک مشتبہ فرد کو گرفتار کیا ہے اور اس حادثہ کے اسباب اور اس میں ملوث افراد کی جانکاری کے سلسلہ میں اس سے سوال جواب کیا جارہا ہے اور جلد ہی قانونی کاروائی کی جائے گی۔ نگہبانوں کا کہنا ہے کہ اس حادثہ کے پیچھے دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے جو اپنے اہلکاروں کو گاڑی سے کچلنے اور چاقو سے حملہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

ہفتہ – 21 شوال 1438 ہجری – 15 جولائی 2017ء  شمارہ: (14109)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>