مصر حکومت کا دینی خطاب میں اصلاح کرنے کی کوشش - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 28 جولائی, 2017
0

مصر حکومت کا دینی خطاب میں اصلاح کرنے کی کوشش

        آخر کار مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے مصری سپریم کونسل یا انسداد دہشت گردی وانتہاپسندی کی قومی کونسل کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔

        یوں تو یہ خبر مفید ہے اور یہ طریقہ بھی بہت عمدہ ہے، یہ ایسی تحریک ہے جس میں برکت ہے اور اس دہشت پسند عقل کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے لئے بہت ہی مظبوط عزم وارادہ ہے جو عقل بازاروں، راستوں، اسکولوں، مسجدوں، گرجا گھروں اور ایئرپورٹوں پر جنم لے رہی ہے گویا کہ مرے ہوئے لوگوں کے زندہ ہونے والے انداز میں یہ تاریکی کی قبر سے نکل کر آیا ہے۔

        اس مصری سپریم کونسل کی صدارت خود ملک کے صدر کر رہے ہیں اور اس کونسل میں پارلیمنٹ کے صدر، شیخ الازہر، پوپ اور وزیر تعلیم، اسلامی امور کے وزیر، وزیر داخلہ اور انٹیلیجنس وزیر جیسے ملک کے دیگر زمہ دار رکن کے طور پر موجود ہیں اور کونسل کا مقصد لائحۂ عمل تیار کرکے اس کو نافذ کرنا ہے اور اس کی نگرانی بھی کرنی ہے۔

        یہ سب اقدام لائق تحسین ہے بلکہ ضروری اور مطلوب ہے اور یہی ملک اور سماج کی خدمت ہے اور اسلام کے نام پر دہشت گردی اور اس پر مبنی ثقافت کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے سلسلہ میں مصر اور تمام مسلمانوں کو میری طرف سے بہت بہت دعا ہے۔ اس سے قبل بھی مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے علمائے ازہر کو دینی اصلاح کی ذمہ داری کی طرف آگاہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر انہوں نے اس مشن کو پورا نہیں کیا تو وہ اللہ رب العزت کے سامنے ان سے مخاصمہ کریں گے!

        ایک مسلمان ذمہ دار عبد الفتاح السیسی کے عزم وارادہ اور ان کی سچائی کے سلسلہ میں کوئی شک نہیں ہے لیکن دینی اصلاح کا مشن کوئی فوجی مشن نہیں ہے کہ یہ اس کا حق ادا کر سکے اور کاش ایسا ہو پاتا تو ہمیں بھی آرام ہوتا اور پوری دنیا کو ہم آرام پہنچاتے پھر یہ معاملہ صرف مصر یا سعودی عرب یا پاکستان یا انڈونیشیا یا سنیگال کے ساتھ خاص نہیں ہے۔۔۔بلکہ دہشت پسندی کی شکست کا معاملہ تو عالمی معاملہ ہے جو تمام انسان کے ساتھ خاص ہے کیونکہ دہشت گردی کے واقعات روزانہ پوری دنیا میں ہو رہے ہیں۔

        ایک دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے پاس بہت سے اقدامات ہیں عربی اسلامی بلکہ یورپی مراکز ہیں جو دہشت گرد ثقافتوں کے ساتھ فکری اور میڈیا سے متعلق محاذ آرائی سے سروکار ہے خواہ یہ ثقافتیں سنی ہوں یا شیعی ہوں اور اس سلسلہ میں کوئی بھی کام کرنا اور اس میں تنوع پیدا کرنا بہت ہی مفید ہے۔

         آخر میں میری بس یہ ہی رائے ہے کہ ہماری توجہ کا مرکز کیفیت کے اعتبار سے فکر کے مقابلہ میں مقدار کے اعتبار سے میڈیاء کی سرگرمی ہو اور یہ پریشانی اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک فکری اور تربیتی پریشانی ہے اور میڈیاء کی سرگرمی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

         میں اس سے بھی زیادہ واضح انداز میں بات کرتا ہوں کہ کیا شریعت کے مفاہیم، حاکمیت، خلافت، سیکولر، بین الاقوامی قانون، اخلاقی پابندی اور عورت کے حقوق کے سلسلہ میں سیاستدانوں اور میڈیاء والوں کی طرف سے سنجیدگی کے ساتھ کی جانے والی گفتگو کا طریقہ موجود ہے۔۔۔

جمعہ – 5 ذو القعدة 1438 ہجری – 28 جولائی 2017 ء  شمارہ: (14122)

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>