سفیر خالد ابن سلمان کی گفتگو - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: بدھ, 9 اگست, 2017
0

سفیر خالد ابن سلمان کی گفتگو

مشاری الذایدی

        سعودی عرب کے نئے سفیر شہزادہ خالد ابن سلمان نے واشنگٹن پوسٹ نامی امریکی میگزین کے ساتھ ہوئے ایک اہم انٹرویو میں سعودی عرب کی بین الاقوامی سیاست کے خد وخال کی وضاحت کی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ایک مجدد نے تجدید کا کارنامہ انجام دیا ہے، تاکید شدہ معاملہ کو مزید تاکید کی ہے، غافل کو تنبیہ کیا ہے اور جان بوجھ کر غفلت میں رہنے والے کو ڈرایا ہے۔۔

         مغربی میڈیا کے اندر سعودی سیاست کے سلسلہ میں ہمیشہ تنازعہ اور معرکہ آرائی رہی ہے۔ یا تو ریگستانی ملکوں کی دقیانوسی تصویر کشی، خوبصورتی، تیل، خیمے اور خیموں میں رہنے والی عورتوں کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے اور جزیرۃ العرب کے سلسلہ میں مغربی وہم وخیال میں یہ تصویر پرانے زمانہ سے ہے اور نوویل، فلموں اور بینروں نے بھی اس تصویر کو بیان کیا ہے۔

        لیکن اس دقیانوسی تصویر کا ایک برا پہلو بھی ہے جو روایتی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تصویر ہے جس پر کام کیا جا رہا ہے اور ایک ایسی مشین ہے جو اسے غذا فراہم کر رہی ہے اور اس مشین کے چلانے والے خمینی ایرانی میدان کے کھلاڑی ہیں یا یا سعودی عرب کی ناپسندیدیگی پھیلانے والے بائے بازو کے لوگ ہیں یا الاخوان کے وہ نئے سرگرم افراد ہیں جو اس جماعت کے مہاجرین کی دوسری اور تیسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

        اہم بات یہ ہے کہ یہ سعودی عرب کی اہمیت ہے اور سعودی عرب پر ضروری ہے ہ وہ اس کا مقابلہ بہادری اور حکمت عملی کے ساتھ کرے ۔۔۔اور اس سے بھی اہم ہے کہ دلیل اور حجت کے ساتھ کرے کیونکہ جنگی جہاز، توپ اور ٹینگ کی جنگ سے پہلے آدھی جنگ تو میڈیاء کے ذریعہ ہوتی ہے۔۔۔

        عام طور پر مغربی اور بین الاقوام میڈیا میں کسی بھی سعودی ذمہ دار کے اندر یہ ثابت شدہ سوال اکثر وبیشتر آئیں گے اور خاص طور پر گاڑی چلانے کا مسئلہ اورشیعوں کے ساتھ تعامل کرنے کا معاملہ ہے۔ وہابیت کا مسئلہ ہے، 11 ستمبر کا معاملہ ہے اور دیگر چند نئے مسائل بھی ہیں جن میں یمن کی جنگ اور قطر کا مسئلہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ

        سفیر شہزادہ خالد ابن سلیمان نے نئے اور پرانے سوالوں کے جوابات بہت درست دئے ہیں۔ 11 ستمبر کو ہوئے حملہ میں چند سعودی باشندے کے ملوث ہونے کے سلسلہ میں انہوں نے کہا ہے کہ جس جماعت نے نیو یارک کے دونوں ٹاوروں پر حملہ کیا تھا اسی جماعت نے ریاض، مکہ، مدینہ، ابہا، الخبر کی سڑکوں پر چلتے ہوئے راہگیروں پر حملہ کیا تھا اور وہ ہمارے بھی دشمن اتنے ہی ہیں جتنے آپ کے ہیں۔۔۔ ممکن ہے کہ وہ آپ سے زیادہ ہمارے دشمن ہیں۔

        عورت، وسعت، عدالتی نظام کی ترقی اور دہشت پسندی کے خاتمہ کے کام گزشتہ دو سالوں میں اچھے ہوئے ہیں۔۔۔ اور جو ریاض اور جدہ کے مولوں کو دیکھے گا وہ ہونے والے بڑے فرق کو جان لے گا۔ رہی بات عورتوں کے معاملات کے تو ان کی قانون اور حقوق سے متعلق فائلوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔ گود لینے کے حقوق اور عورت کی قانونی اہلیت کی حمایت سے متعلق ایک دوسری فائل بھی ہے اور مسلسل مزید کا مطالبہ ہو رہا ہے۔۔۔اور اس میں عورت کے گاڑی چلانے کا بھی مسئلہ ہے جس نے تمام تنازعہ کو ختم کر دیا ہے اور سعودی عرب کے دشمنوں کے لئے میڈیائی مذاق بن گیا ہے اور ان میں خمینی ماڈل ایران بھی ہے جو دنیا کے اندر عورت کے حقوق کے معاون ہونے کا دعویدار ہے!

        اس کے علاوہ اس پوری گفتگو میں جو سب سے زیادہ اہم بات ہے وہ دہشت گردوں اور ان کا تعاون کرنے والی جماعتوں اور ملکوں کے خلاف اسلامی جنگ  کی قیادت میں سعودی عرب کی عالمی زندہ کردار کی وضاحت ہے اور سعودی سفیر کا وہ بیان قابل تعریف ہے جب انہوں نے کہا کہ جی ہاں ۔۔۔چند افراد اور جاعتیں ہیں جو سعودی عرب کے اندر دہشت پسندوں کا تعاون کر رہے ہیں لیکن حکومت ان سے نبرد آزما ہے لیکن چند ممالک ہیں جو مال ودولت، ذرائع ابلاغ اور سیاست کے ذریعہ مسلح اور غیر مسلح دہشت پسند جماعتوں  کی مدد کر رہے ہیں!

        موجودہ وقت میں واشنگٹن پوسٹ کے اسٹیج سے موصوف جیسی شخصیت کی طرف سے اس طرح کی گفتگو سعودی عرب کی آواز کے لئے اہم ہے۔۔۔لیکن شرط یہ ہے کہ اس طرح کی گفتگو مزید ہوں اور اس میں تنوع بھی ہو اور اس کے بنیادی قواعد بھی ہوں کہ انسان اس گفتگو سے نہ تھکے اور نہ اکتائے۔

        پہلی بارش قطرہ کی شکل میں ہوتی ہے۔۔۔ پہلی گفتگو قابل قبول ہوتی ہے۔

بدھ – 17 ذی القعدة 1438 ہجری – 9 اگست 2017 ء  شمارہ نمبر: (14134)

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>