ایک تعلیمی ادارہ کا تعارف: براگ کی چارلس یونیورسٹی کا زندگی کی تبدیلی میں ایک اہم کردار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 11 اگست, 2017
0

ایک تعلیمی ادارہ کا تعارف: براگ کی چارلس یونیورسٹی کا زندگی کی تبدیلی میں ایک اہم کردار

ماسکو: طہ عبد الواحد

        یہ تعلیمی ادارہ اب بھی یہ یقین رکھتی ہے کہ تعلیم ہی جمہوریہ چیک کے اندر ہر طالب علم کی زندگی کی تبدیلی کا راز ہے اور اس ادارہ کی طرف سے اس بات پر بھی زور ہے کہ یہ ادارہ اپنے تعلیمی پروگراموں کے ذریعہ اپنی وسعت کے بقدر پوری کوشش کرتا ہے اور اس کوشش کا مقصد یہ ہے کہ ہر طالب علم بے مثال ہو اپنے آپپر اعتماد رکھتا ہو اور ذمہ داری اٹھانے پر قادر ہو۔ جہاں تک اس اداتہ کے مقصد کی بات ہے تو تو عام طور پر اس کا مقصد ایسا ماحول بنانا ہے جس کی وجہ سے ایسے نمایاں باصلاحیت افراد پیدا ہو سکیں جو تعلیم کے بعد اپنی زندگی کے اندر مقام ومرتبہ حاصل کر سکیں۔ یہ قدیم یونیورسٹی باگ شہر میں ہے جو چیکیہ زبان میں کارلوف یونیورسٹی اور لاتینی زبان میں کارولینا یونیورسٹی اور جرمن زبان میں کارلز براگ یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہے۔ یورپ کے مرکزی علاقہ میں یہ سب سے قدیم یونیورسٹی ہے اور دنیا کے اندر قدیم یونیورسیٹیوں میں سے ایک ہے اور اس کی بنیاد امپائر کارل فورتھ نے رکھی تھی جو لکسمبرگ خاندان کے دوسرے بوہیما بادشاہ تھے اور انہوں نے اپنی تعلیم فرانس میں حاصل کی تھی۔

        آغاز میں یہ یونیورسٹی ہائی اسکول تھا او قانونی طور پر اس کی بنیاد 7 اپریل سنہ 1348ء کو رکھی گئی تھی۔

پیر – 1 ذی القعدة 1438ہجری – 24 جولائی 2017ء شمارہ نمبر:(14118)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>