مقتدی اور بڑی آزمائش کا خاتمہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: بدھ, 16 اگست, 2017
0

مقتدی اور بڑی آزمائش کا خاتمہ

مشاری الذایدی

        عراق کے قومی سیاسی لیڈر اور شیعہ مذہب کے عالم مقتدی الصدر کے سعودی عرب اور امارات دورے کی وجہ سے ایک زمانہ سے ساکن غیر متحرک چیز میں جان  پیدا ہو گئی ہے اور امیدوں کی کرنیں پھوٹ چکی ہیں۔

        الصدر کے جدہ دورہ اور سعودی ولی عہد محمد ابن سلمان سے ملاقات کرنے کے دو ہفتہ بعد مقتدی الصدر نے امارات کا دورہ کیا ہے اور وہاں ابو ظبی کے ولی عہد الشیخ محمد ابن زايد آل نہیان سے ملاقات کی ہے اور ان دونوں رہنماؤں کی ملاقات ویسی ہی کارگر اور مفید ہوئی ہیں جیسے کی سعودی ولی عہد کے ساتھ مفید ثابت ہوئی تھی۔

        ابو ظبی میں قومی رہنماء اور شیعی ثقافت کے پیکر علامۃ المحتد نے اپنے کالے عمامے کے ساتھ عراقی سنی شیخ شماخ الاحمر ڈاکٹر احمد الکبیسی سے ملاقات کی اور دونوں نے ایک ساتھ مل کر کہا کہ وہ دونوں عام عراق کے فائدہ اور شیعہ کا سنی کے ساتھ جنگ نہ ہونے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔

        الشیخ محمد ابن زاید کی مقتدی الصدر سے کہی گئی ان باتوں نے لوگوں کی نگاہوں کو مبذول کر لیا ہے جنہیں اماراتی نیوز ایجنسی نے نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ سے ہم نے سیکھا ہے کہ ہم ہمیشہ اس بات کی دعوت دیں جس کی وجہ سے ہم عرب اور مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو اور افتراق وانتشار کے داعیوں کو جڑ اکھڑ جائے ۔

        عراقی قومی لیڈر کی طرف سے کی جانے والی یہ پسندیدہ کوشش قبول کی گئی ہے اور اس کوشش نے عراق کی قومی شیعی جماعت کے اندر بہت اثر ڈالا ہے اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے سعودی عرب اور امارات کے ساتھ چاپلوسی کیا ہے جیسا کہ توہم پرست لوگ سوچتے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے وطن عراق کے لئے پرسکون مستقبل چاہتے ہیں اور وہ اسی طرح سنی اور شیعہ کے درمیان موجودہ بڑے فتنہ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ بہت ہی بڑی بات ہے۔

        یہ عراقی اور خلیجی کوشش بہت ہی مؤثر اور زندہ ہے اگر چہ اس کے آغاز ہونے میں تھوڑی سی تاخیر ہو گئی ہے اور اس سے قبل بغداد اور ریاض نے اعلان کیا تھا کہ وہ دونوں ممالک اپنے تعقات کو اچھا بنانے کے سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دیں گے اور اسی طرح اس سلسلہ میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے فروری کے ماہ میں بغداد کا دورہ کیا تھا۔

        عراق کا درست ہونا عرب اور مسلمانوں کے درست ہونے کے مشابہ ہے اور یہیں سے وہ حالات بھی پیدا ہوئے ہیں جس نے تمام فرقہ پرست جماعتوں کو جنم دیا ہے لہذا خوارج کی پہلی جنگ، نہروان، قانون کے خلاف کشمکش، جنگ جمل، بنو امیہ اور ہاشم کا آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہونا، جنگ صفین اور کربلا کا المیہ یہ سارے واقعات اسی عراق کی سرزمین پر واقع ہوئے ہیں۔

        پہلا معتزلی رمز واصل ابن عطا، سلفی کے مؤسس احمد ابن حنبل، شیعی رہنماء شیخ الطائفہ الطوسی یہ سب عراق ہی کی شخصیات ہیں اور اسی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عراق اور اہل عراق کا تعلق ہمیشہ اسلامی عقل کی تکوین کے ساتھ رہا ہے۔

        بعض لوگوں کو مقتدی الصدر کے یہ اقدامات بہت چھوٹے لگ رہے ہیں لیکن یہ چاند کے امریکی رہنما نیل آر مسٹر ونگ کے اقدام کی طرح چھوٹا ہے اور اس سخت وقت میں سارے عرب اور مسلمانوں کے لئے مہم ہے۔

        اپریل کے ماہ یہ پہلے شیعی عراقی لیڈر ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے شامی صدر بشار الاسد کو حکومت چھوڑ دینے کی دعوت دی ہے اور اسی کی وجہ سے ایران اور ان جنگجوؤں کے سلسلہ میں ان کا اختلاف ظاہر ہوا ہے جن کی ایران شامی حکومت کا تعاون کرنے کے لئے مدد کر رہا ہے۔

        الصدر کے دفتر نے کہا کہ جولائی کے اخیر میں شہزادہ محمد کے ساتھ ہوئے اجلاس میں جنوب عراق کے اندر شیعوں کے علاقہ میں احتمالی سرمایہ کاری کرنے کے سلسلہ میں غور وفکر کرنے کا معاہدہ ہوا ہے۔

بدھ – 24 ذی القعدة 1438 ہجری – 16 اگست 2017ء  شمارہ نمبر: (14141)

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>