ایک فوجی اڈہ اچھے انسان کے نام سے موسوم - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاء اللہ
کو: بدھ, 16 اگست, 2017
0

ایک فوجی اڈہ اچھے انسان کے نام سے موسوم

سمیر عطاء اللہ

        مصر کے اندر مشرق وسطی کے سب سے بڑے فوجی اڈہ کا نام صدر محمد نجیب کے نام پر رکھنے کیوجہ تنازعہ برپا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ جمال عبد الناصر کے حق میں توہین ہے جبکہ دیگر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تو 65 سال پہلے 23 جولائی کے سب سے پہلے صدر کی یاد میں کیا گیا ہے۔

        جہاں تک میرا خیال ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک انصاف پر مبنی اقدام ہے اور اس کے پیچھے کیا نیت وارادہ ہے اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے۔ مصر کے پہلے جنرل محمد نجیب جیسا کوئی شخص نہیں ہوا ہے۔ ان کو نہ پھانسی دی گئی اور نہ ان کو جیل میں ڈالا گیا لیکن ان کو بھلا دیا گیا یہاں تک کہ جب صدر انور السادات نے ان پر سے نظر بندی کو ہٹایا تو خاموش رہنے او گھر سے باہر نہ نکلنے کی پابندی کو باقی رکھا۔ ان کو باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔

        محمد نجیب کا گناہ اتنا بڑا تھا کہ اس کو معاف نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ فوجی اپنے قیام گاہ میں لوٹ آئیں اور دوبارہ شہری زندگی بحال ہو جائے جس میں ترقی ہو معیشت اور سیاسی کام بھی ہو۔

        محمد نجیب کا انتقال فقیری کی حالت میں ہوا۔ ان کے ایک بھائی جرمن میں ٹائسی ڈرائیور تھے اور دوسرے بھائی عثمان احمد عثمان کی کمپنی میں ڈرائیور تھے۔ اس کے باوجود ان کا نا ہونا دوسرے عرب حکمرانوں کی حالت سے زیادہ بہتر تھی، محمد نجیب کی مدت حکومت سے صرف نظر کرکے اگر دیکھا جائے تو بہت زیادہ عفوودرگزر کرنے والے صدر تھے۔ ان کے ومانہ میں نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ کسی سے انتقام لیا گيا اور نہ ہی کسی کی اہانت کی گئی اور نہ ہی کسی کے حق کو مارا گیا۔۔۔ عبد الناصر نے خود بیان کیا ہے کہ کیسے ان کے دوست آزاد آفیسر کے ساتھ عامر، شمس بدران اور زکریا محی الدین جیسے خودمختار حکمرانوں میں شامل ہوئے، عبد الناصر خود لوگوں سے ملتے اور اپنی شکایتیں ان کے سامنے بیان کرتے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ارد گرد اچھے اور باصلاحیت مخلص لوگ نہیں تھے۔

        سنہ 1967ء میں تمام چیزوں پر دوبارہ نگاہ ڈالی گئی لیکن زمانہ نکل چکا تھا اور مقدر نے عبد الناصر کو دوبارہ داخلی اور خارجی تصویر کشی کرنے کا وقت نہیں دیا اور افسوس کی بات یہ ہے کہ زمانہ گزر جانے کے بد بھی ان کے سلسلہ میں یہ تنازع قائم ہے کہ بعض لوگ ان کی نقطہ چینی کرتے ہیں اور بعض لوگ ان کا دفاع کرتے ہیں اور جب میں "ازلام” "حقراء” اور "عملاء” جیسے کسی بھی ایک مقالہ میں پڑھتا ہوں تو فورا ہی رک جاتا ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ اس بے وقوفی کی ضرورت نہیں ہے اور حقائق کسی کو مجبور کرنا نہیں چاہتی ہے۔ اب بھی ایسی سرکاری تحریریں اور دستاویزات موجود ہیں جن کی وجہ سے مصر  صاف وشفاف نکل سکتا ہے اور جہاں تک آسان بیوقوفی غیر موجود لوگوں کی اہانت کرنا اور تاریخی حقیقت پر ظلم کرنے کی بات ہے تو 23 جولائی کے تمام سربراہان کو ڈرامائی اختتام کا علم ہے اور اس میں کسی قسم کی زیادتی کی ضرورت نہیں ہے۔

بدھ – 24 ذی القعدة 1438 ہجری – 16 اگست 2017ء  شمارہ نمبر: (14141)

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ ایک مصنف اور لبنانی صحافی ہیں، وہ "الاہءر" نامی اخبار اور"الاسبوع العربی"، لبنانی کے "الصیاد" نامی میگزین اور کویت کے اخبار مںن اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>