تیونس میں وراثت میں صنفی مساوات پر الازہر کی تنقید - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: بدھ, 16 اگست, 2017
0

تیونس میں وراثت میں صنفی مساوات پر الازہر کی تنقید

 

قاہرہ: وليد عبد الرحمن

      تیونس کے صدر باجی قاید سبسی کی طرف سے وراثت میں خواتین کو مردوں کے برابر حق دینے اور انہیں غیر مسلم مرد سے شادی کرنے کا حق دینے کی تجاویز پر تنازعہ تیونس سے نکل کر ایک علاقائی تنازعے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

      گذشتہ روز الازہر اس تنازعے میں داخل ہوا اور وراثت میں مرد اور عورت کے درمیان مساوات کو "خواتین پر ظلم اور ان سے ناانصافی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے اسلامی شریعت کے قوانین کے مخالف قرار دیا ہے”۔ الازہر کے ترجمان ڈاکٹر عباس شومان نے کہا کہ "مسلم خواتین کو غیر مسلم مرد کے شادی کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ نہ تو عورتوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی مردوں کے مفاد میں ہے، جیسا کہ اس کا مطالبہ کرنے والے سوچتے ہیں”۔۔۔

      تیونس کے صدر کی تجویز کا جواب دیتے ہوئے الازہر کے ترجمان نے کہا کہ "میراث کی تقسیم قطعی الثبوت آیات کے ذریعے ثابت ہے جس پر اجتہاد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دلیل (یا معانی) احوال، زمانہ اور جگہ کے بدلنے سے نہیں بدل سکتے، اور یہ ان چند موضوعات میں سے ایک موضوع ہے کہ جو کتاب اللہ میں بلا کسی اختصار کے تفصیل کے ساتھ پورا کا پورا سورت نساء میں آیا ہے، اور اس پر قدیم اور دور حاضر کے تمام فقہائے اسلام کا اتفاق ہے”۔

 

 

بدھ – 24 ذی القعدہ 1438 ہجری – 16 اگست 2017ء  شمارہ نمبر: [14141]

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>