ہندوستان کی آزادی کے ستر سال - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاء اللہ
کو: جمعرات, 17 اگست, 2017
0

ہندوستان کی آزادی کے ستر سال

 سمیر عطاء اللہ

        آزاد خود مختار ہندوستان نے اپنی آزادی کے ستر سال کا جشن منایا ہے کیونکہ اس ملک میں ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ جشن منانے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ جزیرہ نما ہندوستان جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنی مختلف زبانوں اور تہذیب وتمدن کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں یہ ہندوستان اپنے جمہوری نظام کی حفاظت کرتے ہوئے ترقی کے منازل منازل طے کر رہا ہے اور اگر تیسری دنیا سے اس کا موازنہ کیا جائے تو یہاں ظلم وزیادتی اور فساد کم ہے اور ترقی وپیش رفت کی نسبت زیادہ ہے۔ لیکن وہاں ایک ایسی چیز بھی ہے جو ہمیشہ بے چین کرتی ہے کیونکہ ایک انگریزی مثال ہے کہ جب انسان ستر سال کا ہو جاتا ہے تو وہ روزانہ اپنی پیدائش کا جشن مناتا ہے۔

        ممالک افراد کے مشابہ ہوتے ہیں۔ بھارتی جنتا پارٹی کے نام پر حکومت کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی ویسے ہی ایک دہشت پسند انسان ہے جیسے کہ ان کی پارٹی دہشت پسند ہے۔ اس پارٹی کے افرار اپنے من میں مست ہو کر دوسرے لوگوں کو ڈرا رہے ہیں۔ جب مودی نے باراک اوباما سے ملاقات کی تھی اس وقت وہ نصف ملین ڈالر کا کپڑا زیب تن کئے ہوئے تھے۔

        اس کی پالیسی آرام دہ نہیں ہے نہ ہی ہندوستان کے لئے اور نہ ہی دنیا کے لئے۔ جس پارٹی کی اسے رہنمائی حاصل ہے وہ مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو ایک ایسے ملک میں بھڑکا رہی ہے جہاں لوگوں نے آزادی سے پہلے فرقہ پرست قتل وغارت گری کا منظر دیکھا ہے اور یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد بھی مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان تعلقات سخت تھے۔ دنیا کی سب سے بڑے جمہوری ملک میں بہت سارے لوگ یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ملک کے اندر مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجہ کے شہری کا معاملہ کیا جا رہا ہے۔ مودی کے اسرائیل دورہ کا فیصلہ یہ بہت بڑا چیلنج تھا جس سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ موجودہ ہندوستانی جمہوریت نہرو کی جمہوریت سے مختلف ہے۔

        پوری قوم کے ساتھ مل کر رہنے اور مثبت غیر جانبداری کی سیاست کو الوداع کہ دیا گیا ہے تاکہ اسلام کی طویل صحبت اور عرب زمانہ کی رعایت کئے بغیر اسرائیل تک پہنچنے کا امریکی انتخاب کامیاب ہو سکے۔

        حقیقت تو یہ ہے کہ اب یہ امید نہیں کی جا سکتی ہے کہ پچاس سال قبل نہرو کے دور میں جو حالات تھے وہ اب بھی ہوں لیکن مودی کانگریس پارٹی کی داخلی اور خارجی وراثت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں اور ایک مہم جوئی کے ذریعہ مودی الگ ہندوستان قائم کرنے کی کوشش کر کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پوری ہندوستانی قوم وملت خطرہ کے نشانہ پر ہے اور اس زمانہ میں ایسا ہونا بہت ہی ناممکن ہے۔ ہندوستان کے خونی رشتہ سے پاکستان بنا پھر ایک اور جنگ کے ذریعہ پاکستان سے بنگلادیش نکلا اور آزادی کی جشن کے ذریعہ مغرب یہ دیکھ رہا تھا کہ ایک متحد ہندوستان بہت زیادہ دنوں تک نہیں رہ سکتا ہے جبکہ وہ ایک زمانہ تک ایک ساتھ مل کر رہا ہے اور ایک ساتھ مل کر کامیاب بھی ہوا ہے۔

        اب وہ ہندوستان نہیں رہا جو چالیس دن تک پریشانی کی حالت میں سوتا رہتا تھا۔ وہ پچھڑا ہوا تھا اور جہاں بچیوں کو زندہ در گور کر دیا جاتا تھا اور اب جو ہندوستان میں سائنسی ترقی اور پیش قدمی ہوئی ہے اس کی وجہ سے جشن منانے کا حق ہے لیکن ڈر اور خوف کا سایہ ہمیشہ منڈلاتا رہتا ہے کہ کہیں بڑے بڑے جنگلات کو چھوٹی اور حقیر چیز خاکستر نہ کردے۔

جمعرات – 25 ذی القعدہ 1438 ہجری – 17 اگست 2017ء  شمارہ نمبر : (14142)

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ ایک مصنف اور لبنانی صحافی ہیں، وہ "الاہءر" نامی اخبار اور"الاسبوع العربی"، لبنانی کے "الصیاد" نامی میگزین اور کویت کے اخبار مںن اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>