کیا امریکی وزیر خارجہ قطر کے ساتھ ہیں؟ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عبد الرحمن الراشد
کو: جمعرات, 17 اگست, 2017
0

کیا امریکی وزیر خارجہ قطر کے ساتھ ہیں؟

عبد الرحمن الراشد

        آج جدہ میں جب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے تو ان کا سامنا ایسی حکومتوں سے ہوگا جنہوں نے اپنے فیصلہ کو مستحکم کر لیا ہے اور ان کو یقین ہے کہ خطے میں خطرناک بد امنی کے پیچھے دوحہ کا ہاتھ ہے۔ ہمیں یہ توقع نہیں ہے کہ یہ ممالک اپنے بائیکاٹ کے ذریعہ دوحہ کی حکومت کا محاسبہ کرنے کے سلسلہ میں علی الاعلان فیصلہ لینے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کے بعد اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں گے۔

        دوحہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ریکس ٹیلرسن کے بیانات اور اشاروں میں کوئی خوش امیدی کی بات نظر نہیں آتی بلکہ ان کی طرف سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ یہ مسئلہ بہت معمولی ہے اور اس کا حل یہ ہے کہ انہوں نے دوحہ حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے قطر حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کا عزم کیا ہے۔ واہ کیا مسئلہ کا حل تلاش کیا ہے؟

        قطر کی عوام نے اختلاف کی حقیقی وجوہات سے نگاہ پھیر کر  غیر حقیقی چیزوں کو دلیل بنا کر اس کا مذاق بنانے کی کوشش کی ہے جیسے کہ انھوں نے ریاض اور اس کے ملحقات کے سلسلہ میں کئے گئے معاہدہ کے بارے میں اپنے راز کو ظاہر کیا ہے کیونکہ ریاض کا ان دستاویزات کو سی این این کے حوالے کردئے جانے کے بعد ان کوسبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے اس بات کا انکشاف ہواہے کہ قطر نے بین الاقوامی میڈیا میں جو کچھ کہا ہے وہ اس کے خفیہ رازوں کے بالکل برعکس تھا۔اس معاملہ میں قطر ہی کو مورد الزام ٹھہرایا جانا چاہیے کیونکہ اسی نے خفیہ راز افشا کرنے کی جنگ  اس وقت شروع کی تھی جب اس نے کویت کی ثالثی سے متعلق چاروں حکومتوں کے اس  پیغام  کو افشا کیاتھا جس میں تیرہ مطالبات کا ذکرتھا اور  اس سے ان حکومتوں کو شرمندہ کرنا مقصود تھا ۔

        آج جدہ کے اندر منعقدہ اجلاس میں پریشانی اس وجہ سے ہوسکتی ہے کہ ٹیلرسن شروع ہی سے قطر کی جانب مائل نظر آرہے ہیں اور اس سلسلہ میں ہونے والے شک کو تقویت یوں ملتی ہے کہ انہوں نے قطر کے مطالبوں کے سلسلہ میں دوسرے فریق کو سنے بغیر صراحت کے ساتھ بیان کر دیا کہ قطر کے مطالبات عقلی ہیں اور اس وجہ سے بہت تعجب بھی ہوا۔ امریکی وزیر خارجہ اگر چاہیں تو قطر کے موقف کی جانب مائل ہوسکتے ہیں لیکن ان کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ وہ اس طرح مسئلہ کو مزید پیچیدہ کردیں گے اور مسئلہ کے حل کرنے میں کافی وقت بھی لگ جائے گا۔

        بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک کو قطر کی سرگرمیوں کی وجہ سے مالیاتی، سیاسی ، میڈیا اور سکیورٹی کے اعتبار سے نقصان پہنچے گا ہے اور ان چاروں ممالک نے انتہائی طور پر اپنے عزم وارادہ کے سلسلہ میں فیصلہ کر لیا ہے اور خاص طور پر ان کے نظام حکومت کو براہ راست ہدف بنانے والے حالیہ پیش رفتوں  کے نتیجے میں لیا گیا ہے۔

        ٹیلرسن بذات خود کوئی مصالحت نہیں کر سکتے ہیں لیکن وہ متحارب فریقوں کے درمیان فاصلہ کم کرسکتے ہیں کیونکہ وہ سب ان کے اتحادی ہیں۔ اس لیے انھیں کسی ایک فریق کی جانب جھکاؤ کے بجائے غیر جانبدار رہنے کی ضرورت ہے بالخصوص جبکہ معاملہ قطر کو ہو جس نے کئی مرتبہ وعدہ تو کیا پر اسے  نبھایا نہیں ہے۔

        دوحہ حکومت جب تک تبدیلی سے انکار کرتے رہے گی اس وقت تک کشیدگی بڑھتی ہی جائے گی۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ دوحہ حکومت کیسے سوچتی ہے اور کیسے بات بناتی ہے۔ ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ وہ عام حالات میں اپنی روش میں تبدیلی نہیں لائے گی اور بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ افراتفری کے شکار خطے میں اپنے وجود کا دفاع کررہے ہیں اور اس صورت حال میں ایران کے مقابلے کا بھی کوئی جواز نظر نہیں آتا کہ قطری حکومت کو وہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور ڈرانے دھمکانے کے لیے کھلا چھوڑ دیں۔

        اس بحران کے واضح اہداف ہیں اور وہ قطر کوروکنا اور اس کے تبدیلی کے منصوبے کو ختم کرانا ہے۔اگر یہ ممالک ان مقاصد کو حاصل نہیں کرپاتے تو پھر وہ اپنے وجود اور استقرار واستحکام ہی کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ مصر نئي تاریخ میں دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی جنگ شروع کرنے جارہا ہے۔ وہ قطر کو اس میں ایک فعال فریق خیال کرتا ہے جس نے اپنے خفیہ فنڈز اور میڈیا چینلوں کے ذریعے پروپیگنڈے سے ان دہشت گرد گروپوں کی کارروائیوں کے جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور لوگوں کو اپنی ہی حکومت کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا ہے۔

        سعودی عرب کو بھی اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قطر اس میں ملوّث ہے۔ متحدہ عرب امارات کا بھی یہی موقف ہے اور اس نے بالکل ابتدائی مرحلے میں ان خطرات کو محسوس کر لیا تھا اوراسے لئے اس نے انتہا پسند گروپوں اور ان کے نظریے سے نمٹنے کے لیے کسی سے بھی کوئی رو رعایت نہ برتنے کی پالیسی اپنائی تھی۔بحرین کو قطر کی وجہ سے سب سے زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

        اب اس تناظر میں ٹیلرسن کیسے ان چاروں ممالک کو ذمے دار فریق کے ساتھ مصالحت کرنے پر آمادہ کرسکیں گے جبکہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں؟ قطر ماضی میں کئی مواقع پر اپنے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہا ہے تو اب اس کے ارادوں کی کیسے جانچ کی جاسکے گی؟

        بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک ہی قطر کو روکنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ اس خطے کے دوسرے ممالک بھی ان کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ قطر ہی انارکی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ذمے دار ہے۔ امریکی وزیر خارجہ قطر کو خود اس سے ہی بچا سکتے ہیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قطر کو اپنے برے اعمال کا بدلہ مل جائے۔

بدھ – 18 شوال 1438 ہجری – 12 جولائی 2017ء شمارہ نمبر: (14106)

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>