ابو الہول کی کہانی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 18 اگست, 2017
0

ابو الہول کی کہانی

زاہی حواس

         تین ہزار سال سے زائد مدت سے قدیم مصریوں نے نئی حکومت کے زمانہ میں "ابو الہول” کی حقیقت جاننے کا اہتمام نہیں کیا جبکہ ان کا یقین تھا کہ "ابو الہول” کا تعلق سورج سے ہے اور کبھی کبھی تو وہ یہ بھی سمجھتےتھے کہ "ابو الہول” ہی سورج کا معبود ہے۔ "ابو الہول” کی زیارت کرنے کے لئے سب سے پہلے جو آئے تھے وہ زمانۂ قدیم میں نیپولین کے نام سے مشہور بادشاہ تحتمس ثالث کے فرزند شہزادہ امنحوتب دوم تھے۔ امنحوتب دوم نے "ابو الہول” کے مشرقی شمال میں واقع اپنے مندر کے اندر ایک تختی چھوڑ دی تھی جس میں اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ نوجوانی اور کم عمری کے زمانہ میں گھوڑسواری بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ گھوڑسواری سکھانے والوں نے اپنے چھوٹے شہزادہ پر خوف کھا کر اس کی خبر ان کے والد محترم کو دے دی لیکن تحتمس ثالث اپنے فرزند پر بہت زیاد فخر کرتے تھے کیونکہ وہ ہی ان کا ایک اکیلا وارث تھا اور وہی ان کی وفات کے بعد حکوت کی باگ وڈور سنبھالنے والے تھے اور اس وجہ سے بھی وہ ان پر فخر کرتے تھے کہ وہ اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر مختلف قسم کا کھیل کھیل لیا کرتے تھے۔

         بادشاہ نے امنحوتب کو اہرام اور "ابو الہول” کے علاقہ میں گھوڑے پر سوار ہو کر جانے کا حکم دیا اور ان کے ساتھ تحتمس رابع بھی گئے جو ابھی بادشاہ نہیں بنے تھے۔ وہ اس مجسمہ کے بگل میں سو گئے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ان کو خواب میں بلایا تھا اور ان کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے جسم کے اوپر سے ریت چھاڑ لیں اور ان سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو وہ انہیں مصر کا بادشاہ بنائے گا۔ ہم اس سے  پہلے کئی مقالوں میں  اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ کہانی "خواب کی کہانی” کے نام سے مشہور ومعروف ہے اور اس کہانی کی ایک سیاسی حقیقت  بھی ہے کیونکہ شہزادہ تحتمس کو حکومت میں آنے کا قانونی حق حاصل نہیں تھا اور یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے قانونی وارث اپنے بھائی کا قتل کر دیا تھا۔ اسی لئے انہوں نے اس  بات کی طرف اشارہ کرنا چاہا کہ "ابو الہول” نے ان کو بادشاہ منتخب کر لیا ہے تاکہ قوم معبود کے فیصلہ کو قبول کر لے اور تحتمس کے گناہ کو بھول جائے۔

        ان کے بعد بادشاہ سیتی اول ابو الملک رمسیس ثانی آئے اور انہوں نے امنحوتب ثانی کے مندر میں ایک تختی چھوڑ تھی۔  انہوں نے مرحوم سلیم حسن کی عربی اور انگریزی زبان میں کتاب کے اندر "ابو الہول” کی وضاحت کی کہ "ابو الہول” یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ نماز پڑھتے تھے اور عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے 500 سال قبل چھبیسویں خاندان کے زمانہ میں فراعنہ نے ایک تختی چھوڑی تھی جسے "اعداد وشمار کی تختی” یا "خوفو کی بیٹی کی تختی” کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں انہوں نے اشارہ کیا کہ بادشاہ خوفو نے "ابو الہول” کی جگہ کو جیزہ کی پہاڑی کے قریب پایا تھا اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ "ابو الہول” کا تعلق بادشاہ خوفو کے زمانہ سے پہلے کے زمانہ سے ہے لیکن تختی پر منقوش معبودوں کے مناظر کی تصویروں اور لکھی گئیں تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب حالیہ زمانہ میں لکھا گیا ہے اور نجومیوں نے یہ اشارہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایزیس اور ابو الہول کی عبادت کا تعلق خوفو کے زمانہ کے پہلے سے ہے یعنی اس کا تعلق پرانی حکومت کے زمانہ کے تیسرے خاندان سے ہے۔

        رومان کے مؤرخ بلینی عیسائی علیہ السلام کی پیدائش سے قبل سنہ 23 میں "ابو الہول” کی زیارت کے لئے آیا تھا اور اس کے پاس” ابو الہول” کی حقیقت کا کچھ علم نہیں تھا۔ اسی لئے اس نے اشارہ کیا کہ وہ صاوی زمانہ کے بادشاہوں میں سے امازیس نامی ایک بادشاہ کی قبر ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یہ جگہ شعراء اور محبت کرنے والوں کی جگہ ہے اور اس کے ارد وگرد بوزیریس گاؤں کے باشندے رہتے ہیں اور یہ جگہ موجودہ "نزلۃ السمان” نامی جگہ ہے۔ پھر اس کے بعد قدیم عرب مؤرخین آئے جیسے کہ عبد اللطیف البغدادی ،  انہوں نے کہا کہ "ابو الہول”  کا جسم اس مجسمہ کے نیچے مدفون ہے۔ مقریزی نے اشارہ کیا کہ "ابو الہول” کی ناک کو "صائم الدہر” نامی اس صوفی نے توڑ دیا جو اس مجسمہ کے بازو میں رہتا تھا کیونکہ لوگ اس وقت اس مجسمہ کی طرف تقدس کی نگاہ سے دیکھتے تھے اسی لئے اس نے تیاری کرکے اس مجسمہ کے چہرہ کو توڑ دیا اور ایسا لگتا ہے کہ اس نے اس کام کو شروع کیاتھا لیکن سخت آندھی اور طوفان کی وجہ سے اسے مکمل کر نہ سکا اور مقریزی بھی ایسا ہی بیان کرتے ہیں۔ علی پاشا  مبارک نے اپنی کتاب "الخطط التوفیقیہ ” میں "ابو الہول” مجسمہ کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے اور القضاعی نے اشارہ کیا ہے کہ یہ بت اہرام کے درمیان میں واقع ہے اور اس کے سر کے علاوہ کچھ بھی ظاہر نہیں ہے اور ناک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مراکشی شخص نے اسے توڑ دیا تھا۔

جمعرات – 25 ذی القعدہ 1438 ہجری – 17 اگست 2017ء  شمارہ نمبر : (14142)

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>