مسٹر بیل کے ستون - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاء اللہ
کو: بدھ, 23 اگست, 2017
0

مسٹر بیل کے ستون

سمیر عطاء اللہ

        موجودہ دور میں انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ بدلنے والی چیز یہ ہے کہ وہ اب کسی چیز سے حیرت زدہ نہیں ہوتا ہے۔ ہم آج مشینی انسان کے سلسلہ میں پڑھتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم لیلی اور بھیڑیا کا قصہ پڑھ رہے ہیں۔ بچوں کے کھلونے لکڑی کی گاڑیاں تھیں اور اب بڑوں کی گاڑیاں بغیر ڈرائور کے ہو چکی ہیں۔(۔۔۔۔) اسے بہت تیزی کے ساتھ روکنا آسان ہوگیا ہے تاکہ راستہ میں کوئی انسان اس کا شکار نہ ہو جائے۔ یہ ساری چیزیں آپ اسی کے لئے چھوڑ دیں یا بیل گیٹس کے لئے چھوڑ دیں۔ خوابوں کی عمر میں آپ تصویر لینے والے یک ایسے موبائل کا خواب دیکھ رہے تھے جس کے ذریعہ آپ دوسری طرف اپنے پیارے محبوب شخص کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس وقت اسکائپ کا زمانہ پرانا ہو چکا ہے۔ جس نے اس کا ایجاد کیا تھا وہ لاٹفیا کا رہنے والا تھا اور کسی نے اس جگہ کے بارے میں نہیں سنا ہے اور بڑی مشکل سے آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ علاقہ بلطیق میں ہے۔

        تیزی کا لفظ زمانہ کی کشیدگی کو بتانے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ یہ تو انیسویں صدی کی اخیر کے لئے مناسب تھا جب مسٹل بیل نے موبائل کا ایجاد کیا تھا لیکن جن بنیادوں پر اس کے تاروں کو بلند کیا گیا تھا ان بنیادوں نے مناظر کو بگاڑ کر پیش کیا تھا چنانچہ غضبناک لوگ ان کو کاٹ کر پھیکنے لگے۔ بعض دیگر لوگوں کا گمان ہے کہ مسٹر بیل مسکون ہیں ان کا تعامل جنوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نےجب یہ فکر مال فراہم کرنے والے کے سامنے پیش کی تو انہوں نے گمان کیا کہ یہ مذاق کر رہے ہیں لیکن ایجادات کے ماہر غیر معمولی شخص ٹوماس ایڈیسن نے کہا کہ ان انکے دوست بیل نے انسان کے درمیان زمانہ ومکان کی فکر کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا ہے۔ مسٹر بیل کے وارث افراد کو اب ان ستونوں کی ضرورت نہیں ہے جن پر پرندے بیٹھ کر چہچہاتے ہیں۔ جس مشین کو اسٹیف جویس نے ترقی دی ہے وہ مشین سینکڑوں اہم کام انجام دیتی ہے اور وہ آپ کے پاکٹ میں رہتی ہے۔

        لوگوں کو آئی فون کے آنے کی توقع نہیں تھی اور یہ ایک ایسی مشین ہے کہ اس کے استعمال کی کوئی حد نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک حیران کر دینے والا کھلونا ہے جس نے بیٹریوں کو اس زمانہ میں ایک اہم صناعت کی طرف تبدیل کر دیا ہے اور آئی فون کو ایک موبائل کی طرح پیش کرنے کی کوشش چل رہی ہے۔

        "قبرہ” ایک چھوٹا سا خوبصورت پرندہ ہے جو موسم بہار میں لبنان سے ہو کر گزرتا ہے اور اہل لبنان اس کا شکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ موسم ختم ہونے سے قبل اس کا شکار جلد سے جلد کر لیں اور آپ بھی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ ایک اور پرندہ ہے جس کا نام "وروار” ہے اور یہ نام اس کی آواز کی مناسبت سے ہے اور اس کے اندر تمام خوبصورت رنگ موجود ہیں اور نامعلوم سبب کی وجہ سے دھواں اسے اپنی طرف کھینچتا ہے لہذا اس کے لئے آگ جلائی جاتی ہے اور وہ پرندے اس کے ارد گرد بڑی تعداد میں گردش کرنے لگتے ہیں اور شکاری ان کا شکار کر کے ولیمہ کی دعوت میں پکا کر انہیں کھا جاتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں وہ اپنے ملک کا سفر کرتے ہیں۔

        شائد کہ ہمارے اندر اہل امریکہ سے زیادہ انسانیت ہے۔ بہت سارے صوبوں میں مسٹر بیل کے ستون کا استعمال ایک کالے شخص کو سولی دینے کے لئے کیا گیا ہے اور وہ انگور کے ایک خوشہ کی طرف اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوتا ہے۔ کیا یہ انسانی عیش وعشرت ہے کہ آپ قبرہ نامی پرندہ کے بارے میں اس وقت سوچیں جبکہ روزانہ ہزاروں انسان کچل دئے جا رہے ہیں اور عرب ممالک میں وہاں کے باشندوں کو ہر وقت ذلیل کیا جا رہا ہے؟ جی ہاں لیکن انسان پر ضروری ہے کہ وہ بلبلوں کا شکار کرنے کے بجائے رحمت کی تعلیم حاصل کرے۔ اسی وجہ سے اصمعی نے کہا تھا کہ بلبل کی سیٹی کی آواز دل کو انگیختہ کر دیتی ہے۔

بدھ – 1 ذی الحجہ 1438 ہجری – 23 اگست 2017ء  شمارہ نمبر : (14148)

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ ایک مصنف اور لبنانی صحافی ہیں، وہ "الاہءر" نامی اخبار اور"الاسبوع العربی"، لبنانی کے "الصیاد" نامی میگزین اور کویت کے اخبار مںن اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>