60 ہزار مسلح عناصر پر مبنی ایرانی ملیشیائیں – اور ان کا مرکز دمشق - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 23 اگست, 2017
0

60 ہزار مسلح عناصر پر مبنی ایرانی ملیشیائیں – اور ان کا مرکز دمشق

دمشق کے وسط میں "تحریک نجباء” ملیشیا کے عناصر (تحریک نجباء)

 

دمشق: "الشرق الاوسط”

      ایران کی نگرانی میں شام میں علاقائی و غیر ملکی ملیشیا جماعتوں کی تعداد 50 سے زائد ہے جبکہ ان میں مسلح عناصر کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے جو ایرانی فوجی ماہرین کی قیادت میں تہران کی پالیسیوں کی تنفیذ کے لئے کام کر رہے ہیں۔

       مئی 2011 سے شروع ہونے والے شام کے بحران کے بعد ان ملیشیاؤں میں سب سے پہلے قاسم سلیمانی کی قیادت میں "قدس برگیڈ” نے اس میں شمولیت اختیار کی؛ جو کہ ایرانی "پاسداران انقلاب” اور "حزب اللہ” لبنانی کے ماتحت ہے۔ اس کے علاوہ دمشق کے جنوبی مضافات میں سیدہ زینب کے علاقے میں مقیم بعض عراقی بھی اس میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد شام میں ایرانی حکم عملی کے باب کا آغاز ہوگیا، جیسا کہ گذشتہ صدی کی 80 کی دہائی میں لبنان میں اور 2003 کی جنگ کے بعد عراق میں ہوا۔

 

بدھ – 1 ذی الحجہ 1438 ہجری – 23 اگست 2017ء شمارہ: [14148]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>