ایرانی وترکی قربت کی حدیں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عثمان میرغنی
کو: جمعرات, 24 اگست, 2017
0

ایرانی وترکی قربت کی حدیں

عثمان میرغنی

         عراق کے کردستان علاقہ میں آئندہ ماہ 25 ستمبر کو ہونے  والے آزادی کے میمورنڈم کو ناکام کرنے کے لئے ترکی اور ایران کا ایک ساتھ ہو کر کاروائی کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ یہ ملک حرکت میں آئیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ کب اور کیسے حرکت میں آئیں گے۔ آج اس حرکت کے اثرات واضح ہونے لگے ہیں خاص طور پر جب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اعلان کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مشترکہ فوجی کاروائی کرنے کا امکان بہت حد تک موجود ہے۔

         اردوغان کا یہ بیان اس ماہ ایرانی چیف اسٹاف جنرل محمد باقری کی اچانک ترکی دورہ کے بعد سامنے آیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس دورہ کا پہلا مقصد کردی میمورنڈم کو ناکام بنانے اور شام وعراق میں ان کی وسعت، اثر ورسوخ اور ان کے عزائم وارادے کو کچل دینے کے لئے ایک ساتھ مل کر مقابلہ کرنے کے کوشش ہے۔ یہ دورہ اپنے آپ میں ایک ایسا واقعہ ہے جس کی اہمیت ہونی چاہئے کیونکہ سنہ  1979ء میں ہوئے ایرانی انقلاب سے لے کر اب تک کی مدت میں ایرانی چیف کا یہ پہلا دورہ ہے اور ان کے ساتھ ایک بہت بڑا فوجی وفد بھی تھا۔ یہ ملاقاتیں صرف فوجی سطح پر ذمہ داروں تک محدود نہیں تھیں بلکہ اردوغان کے ساتھ بند ملاقات بھی ہوئی ہے۔ ترکی اور ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات پچاس منٹ تک ہوئی ہے۔ اس ملاقات سے متعلق ترکی صدارت کا کوئی بیان نشر نہ کرنے کے باوجود جنرل باقری نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے کہا کہ کردستان میں آزادی کے میمورنڈم کے خلاف تہران اور انقرہ دونوں کا ایک مشترکہ موقف ہے اور ان دونوں کا یہ سمجھنا ہے کہ اگر میمورنڈم ہوا تو عراق میں کشیدگی اور چھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک پر بھی ہوں گے۔ انہوں نے اس کے بعد کہا کہ ترکی اور ایران کے ذمہ داروں کا یہ کہنا ہے کہ یہ معاملہ ناممکن ہے اور ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو۔

        ایرانی فوجی ذمہ دار کے دورہ کے چند دنوں کے بعد ترکی صدر کے اس بیان میں دھمکی کا لہجہ واضح انداز میں ظاہر تھا جب انہوں نے کہا کہ کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی اور ایران کے درمیان مشترکہ فوجی کاروائی کرنے کا امکان بہت زیادہ ہے اور ان کے بیان میں اس بات کی طرف بھی اشارہ تھا کہ یہ معاملہ بہت ہی اہم ہے لیکن انہوں نے اس معاملہ کی حقیقت اور اس کی وسعت کی تعیین نہیں کی ہے۔ اس بیان کے تھوڑے وقت کے بعد اردوغان نے انقرہ میں اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ملک کسی بھی قیمت میں شمالی شام میں کردی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔

        اس بات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ترکی اور ایران عراقی کردستان کے میمورنڈم کے خلاف صرف حرکت کرنے کی نیت نہیں کر رہے ہیں بلکہ عراقی سرحدوں کے بعض علاقوں اور شام میں کردی فورسز کے خلاف ایک ساتھ ملکر کاروائی کرنے کی نیت کر رہے ہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ شام میں ان کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے اور ان کا اثر ورسوخ بھی بہت زیاہ ہو چکا ہے اور یہ کردی فورسز دو پارٹی میں ہیں جن میں سے ایک کا نام کردی قوم کی تحفظ فورسز اور دوسرے کا نام کردستان ڈیموکریٹک پارٹی ہے اور ان دونوں کا اپنا الگ الگ علاقہ بھی ہے۔ انہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں اپنی شرکت کے دائرہ میں امریکی فوجی تعاون بھی حاصل کیا ہے اور الرقہ کی جنگ میں ان کا ایک کردار بھی رہا ہے۔ لہذا دونوں ملکوں کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے امن واستقرار کو نشانہ بنانے والی کردی حکومت کے قیام میں مدد کرنے والی ہر کوشش اور تحریک کے خلاف جنگ کریں گے کیونکہ یہ دونوں ملک اپنی زمیں میں مسلح کردی تحریکوں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں اور یہ تحریکیں قومی مطالبوں سے پیٹھ موڑ کر کردیوں کے حقوق کا مطالبہ کر کررہے ہیں۔

        اس ترکی وایرانی معاہدہ کی وجہ سے صرف کردیوں میں بے چینی نہیں ہے بلہ علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کے درمیان بھی بے چینی ہے اور اس کی وجہ سے گزشتہ چند ہفتوں میں امریکی کوشش کے اندر بھی وسعت آئی ہے اور میمورنڈم ہونے کے وقت تک مسلسل کوشش کئے جانے کی امید ہے۔ واشنگٹن یہ نہیں چاہتا ہے کہ ابھی ایسے واقعات یا حالات پیش آئیں جن کی وجہ سے داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گردوں کے خلاف مرکزی جنگ سے توجہ کسی اور طرف مائل ہو جائے جبکہ موصل کی جنگ میں زبردست کامیابی ملی ہے اور داعش کو اس کے علاقہ سے بھگانے کی کاروائی میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے ان علاقوں کا دورہ کر کے بغداد، اربیل اور ترکی کے ذمہ داروں سے ملاقات کی اور کردستان میں آزادی کے میمورنڈم کو دوبارہ ملتوی کئے جانے کے سلسلہ میں واشنگٹن کے موقف کا اظہار کیا ہے۔

        عراق میں کرد لوگ میمورنڈم کو ملتوی کئے جانے کے خلاف اپنے موقف پر مصر ہیں لیکن اس کے باوجود موجودہ پیش رفت کے سلسلہ میں اطمینان کے ساتھ غور وفکر اور غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے وہ لوگ ملتوی کرنے کے سلسلہ میں سوچیں گے لیکن وہ میمورنڈم کو ختم کرنے کے سلسلہ میں کبھی بھی تیار نہیں ہوں گے اور وہ اس سلسلہ میں واشنگٹن اور بغداد کی طرف سے ضمانت لینے کی کوشش بھی کریں گے اور اس کے علاوہ وہ چند سیاسی اور اقتصادی فائدے حاصل کرکے چند چیزوں سے تنازل بھی اختیار کریں گے۔ جن کردیوں نے اپنے قومی عزائم وارادوں کو پورا کرنے کے لئے طویل مدت تک انتظار کیا ہے اور خود مختار ملک بنانے کے خواب کی وجہ سے طویل جنگ میں غیر معمولی قیمت ادا کی ہے ان کو اب سیاسی تعصب کی ضرورت نہیں ہے اور سخت تجربوں نے انہیں حقیقت اور علاقائی وبین الاقوامی پیچیدہ حساب کا مطالعہ کرنے کا علم دیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس ملتوی کے مسئلہ کا مطالعہ سنجیدگی کے ساتھ کریں گے اور ایک اندرونی جنگ چھیڑ کر اور ایرانی – ترکی – شامی فریق کے ساتھ سخت مقابلہ آرائی میں داخل ہو کر تعصب سے بہت بہتر ملتوی کا راستہ بہتر ہے۔

        انقرہ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ کر کے شام اور عراق کی سرحدوں کے ذریعہ کردیوں کے خلاف کاروائی کرنے کا ایک موقعہ مل جائے گا اور اس معاہدہ سے ترک کردستان کارکنوں کی پارٹی کے اڈوں اور ان لائحۂ عمل کے خلاف کاروائی کرنے میں بھی مدد ملے گی جبکہ ایران کا کہنا یہ ہے کہ اس تعاون کی وجہ سے شامی مسئلہ اور اسد کی انتظامیہ کے مستقبل کے سلسلہ میں افہام وتفہیم ہوگا۔ خاص طور پر پر سکون علاقہ کے قیام سے متعلق حالیہ تعاون کے باوجود دونوں اس شامی مسئلہ کے سلسلہ میں دو مخالف راہوں پر کھڑے ہیں۔

جمعرات – 2 ذی الحجة 1438 ہجری – 24 اگست 2017ء  شمارہ نمبر: (14149)

عثمان میرغنی

عثمان میرغنی

عثمان میرغنی الشرق الاوسط اخبار کے سابق نائب ایڈیٹر ہیں.

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>