امریکہ کا حزب اللہ کی کاروائیوں پر اقوام متحدہ کی بے بسی پر تنقید - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 26 اگست, 2017
0

امریکہ کا حزب اللہ کی کاروائیوں پر اقوام متحدہ کی بے بسی پر تنقید

نکی ہیلی

نیو یارک – بیروت: "الشرق الاوسط”

        اقوام متحدہ میں امریکی خاتون سفیر نے کہا کہ لبنان میں بین الاقوامی فورسز حزب اللہ کے خلاف سرگرم خدمت انجام نہیں دے پا رہی ہے اور انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لبنان میں بین الاقوامی فورسز کے رہنماء حزب اللہ کی کاروائیوں کے سلسلہ سمجھ سے باہر عاجزی وبے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

        عرب خلیجی امور کے سعودی وزیر ثامر السبہان نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی فوج کی کوششیں اور ان کا اپنے ملک کے امن واستقرار کی حفاظت کرنا یہ سب ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ملک کی حمایت نہیں کر رہے ہیں بلکہ صرف ملک کے قانونی اور قومی اداروں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ یہ فرقہ واریت نہیں ہے بلکہ یہی ملکوں کو بناتی ہے۔ وزیر السبہان نے اپنے ٹویٹر پر بیروت کے دورہ کے بعد لکھا تھا جس میں انہوں نے گزشتہ بدھ کو لبنان کے صدر سعد الحریری، کتائب نامی پارٹی کے صدر سامی الجمیل اور لبنانی افواج پارٹی کے صدر سمیر جعجع سے ملاقات کی تھی۔

ہفتہ – 4 ذی الحجة 1438 ہجری – 26 اگست 2017ء  شمارہ نمبر: (14151)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>