شامی مخالف جماعتوں کو متحد کرنے کے لئے ریاض کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: لافروف - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 30 اگست, 2017
0

شامی مخالف جماعتوں کو متحد کرنے کے لئے ریاض کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: لافروف

امارات کا ایران اور ترکی کے انخلاء کا مطالبہ – اور العبادی عراقی سرحد کی جانب "داعش” کی منتقلی کو مسترد کر رہے ہیں

شيخ محمد بن زايد اور سیرگی لافروف کل ابوظہبی میں ملاقات کے دوران (وام)

 

لندن ـ پیرس ـ بيروت: "الشرق الاوسط”

      کل روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے شامی مخالف جماعتوں کو متحد کرنے کے بارے میں ریاض کی کوششوں اور اس کی طرف سے آئندہ اکتوبر میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کرانے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کل ابوظہبی میں لافروف نے متحدہ عرب امارات کے اپنے ہم منصب عبد اللہ بن زاید آل نہیان کے ساتھ مشترکہ پریس کے دوران کہا: "ہم، اس جانب آگے قدم بڑھانے کے تمام تر پہلوؤں میں اپنے سعودی شراکت داروں کی مکمل حمایت کریں گے”۔

      دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ "شام کی ریاست میں حکومت کو کمزور کرنے کے لئے دیگر پارٹیاں وہاں سے نکل جائیں، اور اس بارے میں میں ایران اور ترکی سے واضح طور پر بات کرنے کو تیار ہوں”۔

      دریں اثناء فرانس کے صدر عمانویل میکرون نے کہا ہے کہ "رابطہ کمیٹی کا اجلاس” نیو یارک میں منعقد ہوگا۔

      دوسری جانب عراقی صدر حیدر العبادی نے لبنان سے شام اور عراقی سرحدوں پر البوکمال نامی علاقے میں  اس تنظیم کے عناصر کی منتقلی پر "حزب اللہ” اور "داعش” کے درمیان معاہدے کا انکار کر دیا ہے۔

 

بدھ – 8 ذی الحجة 1438 ہجری – 30 اگست 2017ء شمارہ: [14155]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>