علم کے گہوارے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاء اللہ
کو: جمعرات, 31 اگست, 2017
0

علم کے گہوارے

سمیر عطاء اللہ

        ستر کی دہائیوں میں مصر کا شمار عالم عربی کا ایک مدرسہ اور یونیورسیٹی کے طور پر ہوتا تھا یا ایک طرف مصر کو مدرسہ اور یونیورسٹی کا ایک بڑا جزء سمجھا جاتا تھا تو دوسری طرف بیروت کو دوسرا جزء شمار کیا جاتا تھا کیونکہ امریکن یونیورسیٹی نے دنیا کے تمام ممالک میں سے سب سے زیادہ اہم انسٹیوٹیوٹ وہاں کھول دیا تھا۔ خلیجی ممالک کے بعض طلبہ نے بغداد کا قصد کیا لیکن انہوں نے بغداد کا قصد اس وقت کیا جب وہاں کے اساتذہ اور وہاں کی یونیورسیٹیاں صدام حسین کی تحویل اور ان کی دسترس میں نہیں ہوئے تھے لیکن آج کے بغداد کو وہ علمی مجد وشرافت حاصل نہیں ہے جو اسلامی ترقی کے دنوں میں اسے حاصل تھی۔

        وہاں ہمیشہ ایک علم کا مرکز ہوا کرتا تھا جہاں کا قصد ساری قوم وملت کرتی تھی خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب ومشرب سے کیوں نہ ہوتا۔ مثال کے طو پر آج لندن تمام ترقی یافتہ یا غیر ترقی یافتہ ملکوں سے جانے والے طلبہ کا مرکز اول بنا ہوا ہے اور اس نے یہ کردار اسی وقت سے ادا کرنا شروع کر دیا تھا جب اس نے نوآبادیات سے آنے والے طلبہ کے لئے دروازہ کھول دیا اور اس سلسلہ میں ہندوستان کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔ اسی طرح پیرس کی یونیورسیٹیاں فرانسیسی حکومت کے ماتحت افریقہ سے آنے عالے طلبہ سے بھری ہوئی ہیں اور ان طلبہ میں الحبیب بورقیبہ کا نام ایک عرب رہنماء کے طور پر نمایاں ہے جنہوں نے تعلیم کو لازم قرار دیا اور اسی کے ساتھ یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے استعماری طاقتوں کے افکار کو بھی اپنایا تھا جیسے کہ نہرو ہیں اور وہ طہ حسین جنہوں نے پیرس سے واپس ہونے کے بعد مصر میں فری تعلیم حاصل کرنے کی آوز بلند کی تھی۔

        شائد کہ استعماری طاقتوں یا دشمن کی طرف سے تعلیم پر مرتب ہونے والے سب سے عمدہ مثال چین میں ہو سکتی ہے۔ جب اہل چین کے سامنے یہ بات کھل کر آئی کہ استعمار نے ان کی زندگی کو کچل کر رکھ دیا تھا یہاں تک کہ ان کی انسانی عزت وشرافت کو بھی باقی نہیں رکھا تھا تو ان کو یاد آیا کہ وہ یورپ جو زندگی کے میدان میں ان سے بہت پیچھے تھا اور وہ آج استعماری طاقت بن گیا ہے۔ ان میں سے بعض لوگوں نے پیرس میں تعلیم حاصل کی اور ان میں سب سے زیادہ ممتاز چو اون لائی اور زیوپنگ ہیں اور ان کے علاوہ ہو چی منہ بھی ہیں لیکن اکثر وبشتر اہل چین کے پاس ان لوگوں کی صفوں تک پہنچنے کے لئے طاقت وقوت اور وسائل نہیں تھے لہذا ان لوگوں نے بڑی تعداد میں ہمیشہ کے دشمن جاپان کا قصد کیا۔ ٹوکیو میں چینی ترقی یافتہ لوگوں نے اصلاحیوں کے نام سے اخبارات اور میگزین شائع کئے اور انہیں میگزین سے ماو زیڈونگ نے اپنی عمر کے سولہ سال میں ان مصنفوں اور مفکرین کو پڑھنا شروع کر دیا جو عنقریب اس کی اور چین کی زندگی بدل دیں گے۔ گزشتہ صدی کے پہلے سالوں میں چینی بادشاہ جاپان سے اپنے ملک منصب حکومت اور حکومت کی اہم ذمہ داریاں قبول کرنے کے لئے واپس ہوتے تھے اور وہ اپنے ساتھ ایسے مصطلحات اور کلمات بھی لے کر آئے جن سے اہل چین پہلی مرتبہ متعارف ہوئے تھے مثال کے طور جمہوریت، کمیونزم اور سرمایہ داری۔

        اس مرحلہ میں سب سے نمایاں ایک شخص تھا جسے سیولونگ کہا جاتا تھا۔ یہ بھی جاپان سے یہ لکھنے کے لئے واپس ہوا تھا کہ "جن پرانے طریقوں کو ہم نے تین ہزار سال سے بغیر سوچے سمجھے اور اپنی ذہنی گراوٹ اور کشیدگی کی وجہ سے تھام رکھا ہے اس کا زمانہ بہت دراز ہو چکا ہے اور اسی وجہ سے سماج وسوسائٹی، عادات وتقالید، علوم وفنون، افکار وخیالات، اخلاق ورجحانات اور قانون سب بغیر کسی تبدیلی کے تین ہزار سال تک رہے ہیں لیکن کیا چین کی تہذیب وثقافت کا خاتمہ کئے بغیر اس کو اپ ٹو ڈیٹ کیا جا سکتا ہے؟ دنیا کے ملکوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ جاپان سے یہ جواب ملا کہ جاپان میں ترقی کے باوجود اس کی تہذیب وثقافت اپنے بام عروج پر ہے۔

بدھ – 8 ذی الحجہ 1438ہجری مطابق 30 اگست 2017ء (14155)

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ ایک مصنف اور لبنانی صحافی ہیں، وہ "الاہءر" نامی اخبار اور"الاسبوع العربی"، لبنانی کے "الصیاد" نامی میگزین اور کویت کے اخبار مںن اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>