میانمر (برما) پر بین الاقوامی دباؤ اور 87،000 روہنگیا تشدد کے باعث فرار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 5 ستمبر, 2017
0

میانمر (برما) پر بین الاقوامی دباؤ اور 87،000 روہنگیا تشدد کے باعث فرار

اتوار کے روز روہنگیا مسلم اقلیتی افراد بنگلہ دیش سے ملحقہ سرحد پار کرتے ہوئے (رویٹرز)

 

لندن – ڈھاکہ: الشرق الاوسط”

      ایشیائی مسلم ممالک نے میانمر (برما) حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ وہ روہنگیا مسلم اقلیت پر مظالم کو روکے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق  87،000 افراد روہنگیا افراد تشدد سے بچنے کے لئے راخین کے علاقے سے بنگلہ دیش کی جانب فرار ہوگئے ہیں۔

      کل جزائر مالدیپ نےبرما کے ساتھ تمام تر تجارتی تعلقات اس وقت تک منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے جب تک کہ اس ملک کی حکومت مسلم روہنگیا کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکنے کے لئے اقدامات نہیں کرتی۔ اسی ضمن میں انڈونیشیا کے وزیر خارجہ ریٹنو مرچوڈی نے اس بحران کے کنٹرول کے لئے برما حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کل ناپیدوا میں برما کے فوجی سربراہ جنرل مین اونگ ہلنگ سے ملاقات کی۔ جبکہ کل انڈونیشیا کے صدر گوکو ویڈوڈو نے کہا کہ "بار بار، تشدد اور انسانی بحران کو فوری طور پر روکنا چاہیے”۔

      اسی طرح پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنی رپورٹ میں "روہنگیا مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قتل عام اور انہیں زبردستی بے گھر کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے”۔ چنانچہ پاکستانی وزارت نے برما کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف ظالمانہ کاروائیوں پر تحیقیق کا آغاز کرے۔

 

منگل – 14 ذی الحجة 1438 ہجری – 05 ستمبر 2017ء  شمارہ: [14161]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>