برما کے مسلمان اور قتل عام - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سمیر عطاء اللہ
کو: بدھ, 6 ستمبر, 2017
0

برما کے مسلمان اور قتل عام

سمیر عطاء اللہ

        بین الاقوامی سماج وسوسائٹی کے سامنے روہنگا مسلمانوں کے قتل عام کا منظر سامنے ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ قابل شرم عمل اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک کہ ہر مسلمان فوجی ملک سے بنگلہ دیش کی طرف کوچ نہ کر جائے۔ ایک طرف ملینوں مسلمان کو رنگ ونسل اور مذہب کے نام پر کھلم کھلا قتل کیا جارہا ہے تو دوسری طرف بین الاقوامی سماج وسوسائٹی خاموش تماشہ دیکھ رہی ہے۔

        ہم اس بات کو فراموش نہیں کر سکتے ہیں کہ جناب باراک اوباما نے اس دنیا کے سلسلہ میں اپنے بہترین خواب میں کہا تھا کہ پوری دنیا پر ضروری ہے کہ وہ بورما اور بنگلہ دیش کے حالات پر نگاہ رکھیں اور انہوں نے اس وقت پہلی شخصیت سے ملاقات کرنے کو فراموش نہیں کیا بلکہ آپ نے ان سے ملاقات کی  اور یہ آپ کی شخصیت کی عظمت کی دلیل ہے۔

         اوباما نے دنیا کو ہمارے لئے بوش سے زیادہ کشیدگی کی حالت میں چھوڑا ہے۔ بس اخباروں میں بے فائدہ ادبی شہ پارے موجود ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ انہوں نے بورما میں مسلمانوں کے مسئلہ کو پیدا نہیں کیا ہے لیکن اس مسئلہ کو پیچیدہ کرنے میں جن لوگوں نے شرکت کی ہے اس میں ان کا بھی نام ہے۔

        آج دنیا کے سامنے بلقان کا دوسرا مسئلہ ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ کوئی بھی بورما کے ہندؤوں کو اس وحشیت وبربریت سے کسی حد تک نہیں روک سکتا ہے۔ چند ہفتے پہلے میں نے بورما میں اقوام متحدہ کے ایک رکن ڈاکٹر سلامہ سے گفتگو کی تو انہوں نے کہا کہ وہاں کے چند سفر کے بعد اس وفد کے سامنے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ بورما کے اندر مسلمانوں کی تعداد  میں اضافہ ہونے کا شعور پیدا ہوا ہے اور اسی وجہ سے بورما کی حکومت مسلمانوں کو پڑوسی ملکوں کی طرف بھگانے کے سلسلہ میں کچھ بھی کر سکتی ہے۔

        سنہ 1940ء کی بات ہے کہ جواہر لال نہرو نے اپنی بیٹی انڈیرا کو برطانیہ کے جیل سے لکھا کہ وہ ایک ایشیاء کا خواب دیکھ رہے ہیں جس میں ہندوستان، چین، سری لنکا، افغانستان، انڈونیشیا اور ملایو کے ملک شامل ہوں لیکن ایشیائی ممالک کو ہردہائیوں میں تقسیم کی جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بجائے اس کے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہوتا جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہوتی اور انہیں میں روہنگا کے مسمان بھی ہوتے لیکن ی ہپاکستان تو خود دو ملکوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور اس دوسرے ملک کا نام بنگلہ دیش ہے۔

        اس وقت بنگلہ دیش کو اپنی سرحوں پر ایک انسانی المیہ کا سامنا ہے جہاں لاکھو مسلمان حیرت انگیز حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہ ملک میں داخل ہونے کی اجازت کا انتظار کر رہے ہیں۔ بورما سے آنے والے نقل مکانی کی حیرت انگیز واقعات بیان کر رہے ہیں۔ ان کے گاؤں اور شہر سب ڈھا دئے گئے ہیں تاکہ نقل مکانی کرنے والی دوبارہ واپس آنے کے سلسلہ مں سوچ نہ سکیں۔ بعض روہنگی مسلمان بقدر وسعت ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بورمی فوج جہازوں اور جلتے ہوئے بیرل کے ذریعہ ان پر حملہ کر دے رہے ہیں اور زندگی کے ہر اثر کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ فوجی ٹولہ کم سے کم ملک کو مسلمانوں سے پاک کرنے کی کوشش تو کر رہی ہے جبکہ بین الاقوامی سوسائٹی دیگر مسائل وحالات میں گھری ہے جیسے کہ شمالی کوریا کا مسئلہ ہے، شام کی جنگ کا مسئلہ ہے، عراق میں داعش کے صفایہ کا مسئلہ ہے، قطر کا مسئلہ ہے اور ان کے علاوہ مزید مسائل ہیں جنہیں اہمیت حاصل ہے اور سلامتی کونسل میں ان پر گفت وشنید کی جا رہی ہے۔

بدھ – 15 ذی الحجہ 1438 ہجری مطابق 06 ستمبر 2017 ء شمارہ نمبر: (14162)

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ

سمیر عطاء اللہ ایک مصنف اور لبنانی صحافی ہیں، وہ "الاہءر" نامی اخبار اور"الاسبوع العربی"، لبنانی کے "الصیاد" نامی میگزین اور کویت کے اخبار مںن اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>