یمنیوں کی جانب سے بین الاقوامی تحقیق کو مسترد کرنے کی 5 وجوہات - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: پیر, 11 ستمبر, 2017
0

یمنیوں کی جانب سے بین الاقوامی تحقیق کو مسترد کرنے کی 5 وجوہات

صنعا کی ایک گلی میں یمنی بچے (ا۔ب۔ا)

 

لندن: بدر القحطانی

      سرگرم یمنی افراد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نیشنل کمیشن کے اراکین نے "بین الاقوامی تحقیقات” کو مسترد کرنے کی 5 وجوہات کا تعین کیا ہے۔

      پہلا سبب یا وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی کمیٹی علاقائی کمیٹی کو کمزور کر دے گی، دوسرا سبب یہ کہ کمیٹی کی تشکیل سے "اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر 2216 کمزور ہو جائے گی، جسے ہم اپنے ملک کی بحالی کے لئے تھامے ہوئے ہیں اور جسے انقلاب کے حامی بار بار بین الاقوامی میڈیا مہموں کے ذریعے تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں”۔ جیسا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لئے یمن کی قومی کمیٹی کے رکن شہاب الحمیری نے کہا ہے۔

      تیسری وجہ یہ ہے کہ "بین الاقوامی میکانزم کے قیام کا خوف رہے گا، جس سے انتقالی عدالت اور قومی مفاہمت کے امکانات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، اور اس کے علاوہ مزید یہ کہ بین الاقوامی مداخلت متنازع گروپوں کے مابین مزید پریشانی کا باعث بنے گی”۔ چوتھی وجہ عراق، شام اور لیبیا جیسے ممالک میں بین الاقوامی کمیٹیوں کی ناکامی پر تشویش سے متعلق ہے۔ انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہمدان العلیی کے مطابق پانچویں وجہ یہ ہے کہ "بین الاقوامی کمیٹی کا قیام یمن میں قانونی حکومت کو نشانہ بنانے کے ضمن میں ہے کیونکہ "نیشنل کمیٹی” کا قیام صدارتی فیصلے کے تحت کیا تھا تھا”۔

پیر – 20 ذی الحجة 1438 ہجری – 11 ستمبر 2017ء  شمارہ: [14167]
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>