عراق میں "داعش" کے خاندانوں کا نامعلوم مستقبل - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 12 ستمبر, 2017
0

عراق میں "داعش” کے خاندانوں کا نامعلوم مستقبل

موصل کے قریب ایک کیمپ میں 13 ممالک کی شہریت کے حامل 1400 غیر ملکی خواتین اور بچے

موصل کے جنوب میں ایک کیمپ میں مسلح "داعش” کے اہل خانہ (رویٹرز)

 

موصل: "الشرق الاوسط”

      عراقی حکام کی جانب سے "داعش” کے افراد کی ہلاکت کے بعد، اب عراق کے شہر موصل کے جنوب میں واقع ایک کیمپ میں زیر حراست ان مسلح (داعش) افراد کی 1400 غیر ملکی بیویوں اور بچوں کا مستقبل تاریک ہے۔ عراقی فوج اور انٹیلی جنس افسران کے مطابق زیر حراست ان خواتین کا تعلق 13 ممالک سے ہے، جن میں سابق سوویت یونین کے ممالک جیسے تاجکستان، آزربیجان، روس سمیت ایشیائی ممالک شامل ہیں، علاوہ ازیں فرانس اور جرمنی سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد "انتہائی کم” ہے۔

      "رویٹرز” ایجنسی کے صحافیوں نے سینکڑوں بچوں اور خواتین کو کسی بھی ایئر کولر کے بغیر خیموں میں چٹائیوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا، جس پر کیڑے مکوڑے تھے، جبکہ امدادی کارکنوں کے مطابق یہ "فوجی مقام” کے اندر ہے۔ زیر حراست یہ خواتین ترکی، فرانسیسی اور روسی زبان میں بات کرتی تھیں۔

منگل – 21 ذی الحجة 1438 ہجری – 12 ستمبر 2017ء  شمارہ: [14168]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>