عبد الملک ہمیں "تازہ" میزائل سے دھمکی دے رہا ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 15 ستمبر, 2017
0

عبد الملک ہمیں "تازہ” میزائل سے دھمکی دے رہا ہے

          ہر آنے والا دن یہ ثابت کر رہا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی جانب سے فوجی خارجہ پالیسی کا فیصلہ اور متحدہ عرب امارات کے مؤثر کردار کے ساتھ خلیجی عربی اتحاد کا قیام نہایت ضروری امر تھا۔

      لیکن کچھ لوگوں نے حوثی اور ان کے اتحادی معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے خلاف اس عرب اسلامی اتحاد کے قیام پر شک کیا اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا، قطع نظر اس کے کہ حوثی ایرانی پاسداران انقلاب خمینی کے نیٹ ورک کا ایک "نامیاتی” جز ہے۔

      حوثیوں نے جازان، نجران، جنوبی ظہران کے علاقوں پر دراندازی کی اور خمیس، مشیط، ابھا، صبیا، طائف اور مکہ مکرمہ کے قریب ایرانی ساختہ میزائل داغے۔

      آج یمن میں ایرانی پٹھو اور لاچار علی عبد اللہ صالح کے ماتحت عبد الملک الحوثی نے طاقت سے اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو غیر معمولی دھمکی دے ہے۔

      معلوم نہیں کہ حوثی کی جانب سے اس قدر اعتماد کا راز کیا ہے اور اسی طرح قطری حکام کا بھی۔

      لیکن! ہر مرض کا علاج ممکن ہے سوائے بیوقوفی کے، کیونکہ جو اس کا علاج کرے گا وہ خود بیمار ہو جائے گا۔

      بھائی عبد الملک الحوثی نے خمینی کا طرز اپناتے ہوئے "المسیرہ” چینل پر نشر کردہ گذشتہ خطاب کے دوران کہا: "متحدہ عرب امارات ہمارے میزائلوں کے نشانے پر ہے”، جو کہ ایک "خیالی” میزائل کے "کامیاب” تجربے کا اعلان تھا کہ وہ ابوظہبی تک پہنچے گا۔ اسی طرح لبنان کے خمینی حسن نصر اللہ کی روایت پر چلتے ہوئے نوجوان لڑکے عبد الملک الحوثی نے کہا: "میزائل کی رینج ریاض سے آگے تک پہنچ چکی ہے”۔ کیا آپ کو حیفا کے بارے میں نصر اللہ کا خطاب یاد ہے اور جو حیفا کے بعد ہوا؟!

      عبد الملک کا پاگل پن اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب اس نے ریاض کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اگر تم اپنے تیل کے جہاز سلامت رکھنا چاہتے ہو تو الحدیدہ پر حملہ نہ کرنا”۔ کہا جاتا ہے کہ حوثی کا مقصد انقلاب کے 3 سال گذرنے کے بعد اپنے ہی پیٹی بند بھائی کانگریس پارٹی اور صالح کے ساتھ اختلافات کا سامنا  کرنے کے لئے اپنے کھوکھلے نعروں کے ذریعے یمن میں عوامی غصے کے جذبات کو دفن کرنا ہے۔

      لیکن اس تقریر کے بعد اتحادیوں کو سخت سنجیدگی سے نمٹے کی ضرورت ہے اور مران کی غاروں میں امام زیدی کو واپسی یا قتل کے لئے یمن میں خمینی کے اس پٹھو کا قلع قمع کرنا چاہیئے۔

      بالائی علاقے کے اس نوجوان کی یہ بات یمن میں خمینی منصوبے اور اس کے اپنے لئے ایک مصیبت ہے۔

      پابندیوں کی بات اپنی جگہ بجا!

      جیسے حوثی اور خمینی فکر کے حامل افراد کو بین الاقوامی تنظیمات کی تنقید کا سامنا ہے، لیکن یہ فیصلہ کن جنگ ہے اور "بھائی” انتہائی تباہی کے دہانے پر ہیں۔ جو لوگ عرب اتحاد کے مقاصد کے بارے میں شک کرتے ہیں ان کے لئے، یہ ہے عبد الملک الحوثی جو کہ عرب اتحاد کو دلیل فراہم کرتا ہے کہ وہ ان کے خلاف اپنی کاروائی ہر قیمت پر پوری کرے۔ جیسا کہ محمد بن سلمان نے گذشتہ مئی میں ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بات نہیں "مناسب وقت کا انتظار کیا جائے گا اور ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں”۔

      پرانے وقتوں کی مثال ہے، جب چونٹی کے پر نکل آئیں۔۔۔ تو یہ اس کا آخری وقت ہوتا ہے۔

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>