صوبہ کردستان ریفرنڈم کے بعد - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 26 ستمبر, 2017
0

صوبہ کردستان ریفرنڈم کے بعد

         

مینا العریبی

 

        عراق جن حالات سے گزر رہا ہے یہ روز بہ روز مشکل سے مشکل ترین کی جانب جا رہے ہیں، خواہ یہ عراق کے کل رقبے کے تقریبا تیسرے حصے پر تنظیم داعش کا کنٹرول ہو یا پارلیمنٹ کی طرف سے عراقی حکومت کے کئی ایک وزراء کو کرپشن کے باعث مستعفی کرنے کا عمل ہو۔ اور آج ہم صوبہ کردستان کی علیحدگی کے لئے ہونے والے ریفرنڈم کی شکل میں ایک نئے بحران کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ دلی ہمدردی جو کہ ہماری عرب دنیا میں سیاسی پالیسیوں اور مختصر فیصلوں میں اہم ترین، اسے ایک جانب رکھتے ہوئے ہم غور کرتے ہیں کہ ریفرنڈم سے کیا مراد ہے اور اس کے بعد کیا ہوگا۔

       ریفرنڈم فی نفسہ کوئی اتنا بڑا مسٔلہ نہیں ہے، نہ تو عراق کے لئے اور نہ ہی صوبہ کردستان کے لئے، جبکہ یہ مقررہ ہدف بھی نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف سیاسی اہداف کے حصول کا ایک وسیلہ ہے جو آزادی کی جانب لے جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عراقی سیاسی عمل میں نئی کمی کی جانب بھی اشارہ ہے، کیونکہ یہ ریفرنڈم سیاسی اتفاق رائے پر مبنی ہونا چاہئے تھا۔

      "داعش” کے خلاف اختتام پذیر کاروائی کے بعد اب عراقی سیاست میں ایک جانب عام نقطۂ نظر کے اعتبار سے مسلح جماعتیں عراقی سرزمین کے مختلف حصوں کا کنٹرول سنبھال رہی ہیں تو دوسری جانب آئندہ سال قانون سازی کے لئے نئے انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے۔

      لیکن صوبہ کردستان کے ریفرنڈم کی نوعیت عراق اور خطے کے لئے تھوڑی مختلف اور خطرناک ہے۔ سب سے پہلے تو یہ 2003 سے عراق پر حکمران کردوں اور شیعہ دینی جماعتوں کی مرکزی قوت سے سیاسی دستبرداری کی دلیل ہے۔ جبکہ آئندہ مرحلے کے دوران بلا کسی نئے اتحاد کے یہ دونوں سیاسی عمل چلا سکتے ہیں۔

      جبکہ حالیہ وقت میں عراق کی گلیاں بھی مختلف قسم کے جذبات اور فرقہ واریت کے فروغ کو واضح  کرتی نظر آتی ہیں، جیسے کچھ کرد ایسے ہیں جو آزادی چاہتے ہیں لیکن اپنے آپ کو عراق میں رہنے پر مجبور تصور کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو صوبہ کردستان کو عراق میں شامل رکھنا چاہتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ صوبے کا اپنا ردعمل ان مشکلات کی اصل وجہ ہے۔ اس نازک مرحلے کے دوران ووٹوں کی کمی دونوں پارٹیوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتیں ہیں۔ خطے کے اعتبار سے ترکی اور ایران کی اقتصادی اور سیاسی حرکت جاری ہے یا پھر اس سے بڑھ کر – فوجی حرکت – جس کے نتائج کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اگر ایسا ہوا تو اس صورت میں یہ علاقہ بھاری اسلحے سے بھر جائے گا جس میں اندرونی اور بیرونی گروپ اپنے ہتھیاروں کا استعمال کریں گے اور خطے میں مزید بدامنی پیدا کرنے کے کسی موقع کو ضائع نہیں کریں گے۔

      جو شخص کرد حقیقت کے بارے میں تھوڑی سے بھی معلومات رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ صوبہ کردستان ان ممالک کی ہمسائیگی میں واقع ہے جو اس کی علیحدگی کے مخالف ہیں۔ اور یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ ترکی، ایران اور شام نے ریفرنڈم کے حوالے سے سخت موقف کو اپنایا ہے تاکہ آنے والے مرحلے میں آزادی کی تاریخ کے اعلان سے اسے روکا جا سکے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس امر کا جواب دینے میں عراقی حکومت غیر متوقع اور غیر منطقی انداز میں خاموش ہے، جبکہ کرد قیادت نے گذشتہ جولائی میں ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔ اگر اس وقت فوری طور پر جماعتیں مل کر اس ریفرنڈم کو ملتوی کرنے یا اس کا تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کرتیں تو صورت حال آج سے یکسر مختلف ہوتی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح عراق اس بار بھی آخری لمحے حرکت میں آیا ہے۔

      بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کرد قیادت کی طرف سے ریفرنڈم کا یہ فیصلہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اقوام متحدہ کے خلاف ہے، اور خطے کی تمام ممالک سرے عام یا خفیہ طور پر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

      سوال یہ ہے کہ! کیا یہ صرف اندرونی سیاسی مسٔلہ ہے یا ایک فیصلہ ہے جو کردوں کا بغداد کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی بنا پر کیا گیا ہے اور وہ بھی ایسے نازک وقت میں کہ جب عراق "داعش” کے خلاف جاری جنگ کے اختتام پر ہے اور مشرق وسطی کے بحرانوں کے باعث شام کمزور ہوگیا ہے۔

      گذشتہ چند ماہ کے دوران عراق میں "داعش” کے خلاف جنگ میں سب متحد ہو کر لڑ رہے تھے اور موصل و رمادی کے علاقوں سے بے گھر ہونے والوں کو صوبہ کردستان کی عوام نے پناہ دی تھی، اور عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے لٹکی ہوئی کئی سیاسی فائلوں کو نمٹانے کی بھرپور کوشش کی۔ پہلی بار "داعش” کے خلاف عراقی افواج اور کردی پیشِ مرگ افواج نے شانہ بشانہ جنگ کی، لیکن اس کے باوجود عراق کے مستقبل کے حوالے سے ان کے نقطۂ نظر میں تبدیلی نہ آسکی۔

      حیرت انگیز طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ؛ جس نے عراق میں کرد حکام کو تمام تر سیاسی حمایت اور طاقت فراہم کی تھی، اربیل کی طرف سے آزادی کی جانب سنجیدہ قدم اٹھانے پر حیران ہے۔ واشنگٹن نے اس مرحلے میں ڈھیل دی ہے جیسے آج شمالی شام میں بہتری کی خاطر ڈھیل دی ہے جہاں گذشتہ دنوں مقامی انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا۔

       ریفرنڈم کے بعد! عراق کو انقرہ اور تہران کے کردار کی بجائے باعتماد اندرونی حمایت کی ضرورت ہوگی تاکہ باہمی رضامندی کے ساتھ علیحدگی کا مرحلہ مکمل ہو۔ عراقی حکومت کو چاہئے کہ وہ آنے والے مراحل میں صوبہ کردستان کی عوام کو عراق کی کی عوام تصور کرتے ہوئے براہ راست معاملات طے کرے اور ان سے دوری پیدا نہ ہونے دے، جیسا کہ گذشتہ دنوں پہلی بار کرد رہنماؤں کی طرف سے بغداد کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی رغبت کا اظہار کیا گیا۔ یہاں ممکن ہے کہ اقوام متحدہ عراق کی سرحدوں اور اس میں موجود افراد کی حفاظت کے لئے مرکزی کردار ادا کرے۔ چنانچہ اب بات ہے صوبہ کردستان کی عوام کی، جو اس معاشی گھیراؤ اور غیر منصفانہ اقدام کی متحمل نہیں ہے۔ چنانچہ آئندہ مراحل کے فیصلے میں انسان کی بقا ضروری ہے، چاہے وہ عربی ہو، کردی ہو، ترکمانی ہو یا کوئی بھی شہریت کا حامل ہو۔ اب مزید خون ریزی اور قتل و غارت کی ضرورت نہیں اور یاد رہے کہ ہتھیار اٹھانے سے صرف تباہی ہی پیدا ہوتی ہے۔

 

منگل – 6 محرم 1439 ہجری – 26 ستمبر 2017ء شمارہ: [14182]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>