کرد حکمرانی کرنا نہیں جانتے : اردگان - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: بدھ, 27 ستمبر, 2017
0

کرد حکمرانی کرنا نہیں جانتے : اردگان

مشاری الذایدی

 

      عراقی کرد عوام اپنے رہنما مسعود بارزانی کی قیادت میں ایسے ریفرنڈم پر مُصر ہیں جو عراقی صوبہ کردستان کو ایک مکمل آزاد، خودمختار اور ذمہ دار ریاست کی شکل میں آزادی پر اختتام پذیر ہو۔

      جیسا کہ توقع کی گئی تھی، کہ یہ اہم اقدام سیاسی منظر نامے کو ہلا کے رکھ دے گا اور کردوں کو کسی بھی ملک سے حمایت نصیب نہیں ہوگی۔ چنانچہ واشنگٹن، لندن، پیرس، ریاض اور قاہرہ سب نے اربیل کو نصیحت کی کہ وہ "حکمت” سے کام لے اور "داعش” کے خلاف عراق اور اس کے ساتھ "شام” میں جاری جنگی کاروائیوں میں خلل پیدا نہ کرے اور عراق کی وحدت کے لئے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگی کوششوں کو تیز کرے اور عراقی اتفاق رائے کا خواہاں ہو۔

     جبکہ ترکی، جس کے ساتھ خمینی جمہوریہ ایران کے رہنما بھی شامل ہیں، انہوں نے کردوں کے خلاف چمکتی ہوئی تلواروں کے ساتھ دھمکی دی ہے۔

      ترک صدر رجب طیب اردگان نے عراقی صوبہ کردستان میں علیحدگی کے لئے ریفرنڈم کا جواب دیتے ہوئے کل بروز منگل کہا کہ عراقی کرد نہیں جانتے کہ ریاست کیسے قائم ہوتی ہے۔ ترک ٹیلی ویژن  نے صوبے کے صدر مسعود بارزانی کو "غدار” کہا، اور اردگان نے نہایت رحم دلانہ احساس کے ساتھ کہا: "آخری لمحات تک ہمیں اس بات کی توقع نہیں تھی کہ بارزانی ایسی غلطی کریں گے”!

      تاہم ! ترک صدر کے بیان پر تعجب یہیں پر ختم نہیں ہوتا کہ کردوں کو حکومت کرنے کا علم نہیں، بلکہ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر بارزانی باز نہ آئے تو ایسی صورت میں وہ خطے کو نسلی اور فرقہ ورانہ جنگ میں دھکیل کر تاریخی شرمناک عمل کریں گے”۔

      ترک رہنما نے کردوں کو واضح گھیراؤ کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ترکی عراقی کردستان میں تیل کی پیداوار کو روک دے گا۔

     یہاں یہ موضوع گفتگو نہیں کہ کرد آخری لمحے تک کھیلے اور ریفرنڈم کرانے میں کامیاب رہے اور صوبہ کردستان میں انتخابی ہائی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ریفرنڈم میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والوں کا تناسب 72 فیصد رہا ہے۔

      موضوع ایسے سوالات ہیں، جو عراقی کردستان میں ریفرنڈم پر ترک صدر کے خیالات سے متعلق ہیں۔۔۔ جو ترکی میں کردش قومی خطرے سے  دور ترک جنون سے متعلق ہے۔۔۔۔ یہ سوالات کچھ اس قسم کے ہیں کہ: اگر کرد عوام اپنی نسلی (مادری) زبان میں ہم سے گفتگو نہ کریں، تو کیا وہ مسلمان اور سنی بھی رہتے ہیں؟

 اگر بات ایسے ہی ہے تو! ایسے ہی سہی،۔

سوال ہے کہ پھر ترکی کیا کر رہا ہے ؟

یا ان کے خلاف کیا کرنے والا ہےِ؟

ظالمانہ گھیراؤ؟

یا

پھر ایک قانونی خود مختار علاقہ؟

دوسری بات یہ کہ!

     اگر کرد حکمرانی کرنا نہیں جانتے تو کیا مصر میں "اخوان المسلمین” اور شام میں سابقہ "نصرت فرنٹ” اور حالیہ "فتح شام” نامی جماعتیں حکمرانی کرنا جانتی ہیں؟

    منطق میں سنجیدگی اور حکمرانی میں حکمت عملی، ذہنی پختگی کی جانب اشارہ ہوتے ہیں۔

 

بدھ – 7 محرم 1439 ہجری – 27 ستمبر 2017ء  شمارہ: [14183]
مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>