شامی زیر کنٹرول علاقوں میں زبانوں کا تنازعہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 29 ستمبر, 2017
0

شامی زیر کنٹرول علاقوں میں زبانوں کا تنازعہ

حکومتی سکولوں میں روسی اور فارسی زبانوں کے مابین اور شمال میں ترکی اور کردی زبانوں کے مابین مقابلہ

درعا میں ایک سکول کے سرکاری افتتاح کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور ان کے ملک کا جھنڈرا (اخبار درعا)

 

بيروت ـ انقرہ ـ دمشق ـ لندن: "الشرق الاوسط”

      حالیہ وقت میں شام کے زیر کنٹرول علاقوں میں ممالک کے مابین زبان کے بارے میں مقابلہ بازی اور اپنی موجودگی کو گہرا کرنے کی جدوجہد جاری ہے، چاہے یہ سلسلہ "کشیدگی کم کرنے” کے معاہدے کے ضمن میں ہو یا حکومتی سکول ہوں یا پھر مخالف جماعتوں کے زیر کنٹرول علاقے۔

     حکومتی علاقوں میں اور دمشق کے مضافات میں رہنے والے غریبوں میں تہران کی کوشش ہے کہ وہ فارسی زبان اور اپنے ثقافتی ادارے پھیلائے۔ جبکہ روس جو ان دنوں اپنی فوجی مداخلت کی دوسری سالگرہ منا رہا ہے، اس کی کوشش ہے کہ روسی ثقافتی مراکز کا احیا کرنے کے علاوہ سرکاری سکولوں میں روسی زبان کو پھیلائے اور خاص طور پر ملک کے مغربی ساحل پر لاذقیہ اور طرطوس کے قریب حمیمیم میں اپنی فوجی چھاؤنیوں کے قریب۔ جبکہ حکومت کی دلچسپی دمشق میں امریکی اور فرانسیسی سکولوں میں کم پائی جاتی ہے جہاں انگریزی اور فرانسیسی دو زبانوں میں تدریس ہوتی ہے۔

 

جمعہ – 9 محرم 1439 ہجری – 29 ستمبر 2017ء شمارہ: [14185]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>