قطر کی طرف سے شہریت ختم کرنے کے عمل پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 2 اکتوبر, 2017
0

قطر کی طرف سے شہریت ختم کرنے کے عمل پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

جینوا میں انسانی حقوق کی کانفرنس میں شریک قطری شاعر محمد بن فطيس اور صالح المری جن کی قطری شہریت ختم کر دی گئی ہے ("الشرق الاوسط”)

 

لندن: "الشرق الاوسط”

      انسانی حقوق کی تنظیموں نے قطر پر تنقید کی ہے جس نے اپنے ان شہریوں کی شہریت ختم کر دی ہے جنہوں نے خلیجی بحران کے بارے میں اپنی رائے پیش کی ہے۔

      "انسانی حقوق کے لئے عرب فیڈریشن” کے سربراہ ڈاکٹر احمد ہاملی نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ قطر کی طرف سے اپنے شہریوں کے خلاف یہ اقدام تعجب اور تشویش پیدا کرتا ہے کیونکہ شہریت کے حقوق کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہوتے اور خاص طور پر جب آزادئ رائے کی بات ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر میں شہریت ختم کرنے کے واقعات بغیر کسی عدالتی حکم نامے یا قانونی شق کے ہیں۔ ہاملی نے زور دیا کہ شہریت ختم کرنے کے اقدام پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور نشاندہی کی ہے کہ سیاسی معاملات میں شہریوں کے حقوق شامل ہونے کی وجہ سے یہ بات تمام بین الاقوامی تنظیموں کے لئے باعث تشویش ہے۔

      انہوں نے کہا کہ قطر کا عرب قبیلوں اور خاص طور پر "آل مرہ” اور "ہواجر” کو بے گھر کرنا قطر کی پالیسیوں کے منافی ہے، کیونکہ اس کا دعوی ہے کہ وہ آزادئ رائے کی حمایت کرتا ہے۔ "عرب فیڈریشن” نے شاعر محمد بن فطیس کی شہریت ختم کرنے اور شعرا و دیگر دانشوروں کے خلاف بدسلوکی کے اقدامات پر قطر حکومت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

 

پیر- 12 محرم 1439 ہجری- 02 اكتوبر 2017ء شمارہ: (14188)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>