مسلسل حمایت کو یقینی بنانے کے لئے تہران میں "حماس" کا ایک وفد - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 21 اکتوبر, 2017
0

مسلسل حمایت کو یقینی بنانے کے لئے تہران میں "حماس” کا ایک وفد

العاروری اپنی سربراہی میں مصالحتی معاہدہ کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

ایرانی رہنماء علی خامنئی اور اسماعیل ہنیہ کو سنہ 2006ء کو تہران میں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

رام اللہ – غزہ: "الشرق الاوسط”

         کل تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے نائب صدر صالح العاروری ایران کے ذمہ داروں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے تحریک کے رہنماؤں کے ایک وفد کے صدر کے طور پر تہران پہنچیں گے اور نئے منصب کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔(۔۔۔)

        تحریک حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ وفد ایرانی ذمہ داروں کے ساتھ فلسطین سے متعلق نئے مسائل کے سلسلہ میں گفتگو کرے گا اور خاص طور پر تحریک فتح کے ساتھ مصالحت، دو طرفہ تعلقات اور احتلال کے سلسلہ میں ہونے والی نئی پیش رفتوں کے بارے میں گفتگو کرے گا۔(۔۔۔)

        ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے بتایا ہے کہ حماس کی کوشش یہ ہے کہ ایران اس کی دوبارہ مدد کرے جبکہ اس سے پہلے وہ مسلسل مدد کیا کرتا تھا پھر اچانک یہ مدد رک گئی اور پھر ایران نے محدود انداز میں مدد کرنا شروع کیا۔(۔۔۔)

ہفتہ – 1 صفر 1439 ہجری – 21 اكتوبر 2017ء شمارہ نمبر: (14207)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>