بارزارنی کو ہٹانے کے لئے کردوں کی سہ فریقی حرکت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 25 اکتوبر, 2017
0

بارزارنی کو ہٹانے کے لئے کردوں کی سہ فریقی حرکت

عراقی افواج کا ترکی اور شام کے ساتھ سرحدی مثلث کا مطالبہ

صوبہ کردستان کی حکومت کے زیر کنٹرول عراق اور ترکی کے مابین سرحدی راہداری الخابور (رویٹرز)

 

اربيل: "الشرق الاوسط”

      کل عراقی صوبہ کردستان کے صوبائی صدر مسعود بارزانی کو ہٹانے کے لئے تین پارٹیاں حرکت میں آئیں ہیں اور انہیں صوبے میں "سیاسی و عسکری بحران” کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ دریں اثناء رپورٹس کے مطابق عراقی افواج نے پشمرگ کرد افواج سے ترکی اور شام کے ساتھ مثلثی سرحدی علاقے کا کنٹرول دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

      جبکہ تحریک التغییر، "اسلامی جماعت” اور "جمہوریت و انصاف کا اتحاد” نامی تینوں جماعتوں؛ جن کے رہنما سابق صوبائی وزیر اعظم برہم صالح ہیں، انہوں نے کامیابیوں کی حفاظت، سیاسی عمل کی راہ کو درست کرنے اور بحران پر قابو پانے کے لئے کل 5 شقوں پر مشتمل ایک مشترکہ تجویز پیش کی ہے۔ (۔۔۔)

      علاوہ ازیں، سیکورٹی ذرائع کے مطابق عراقی افواج نے پیشمرگ افواج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق ترکی اور شام کے مثلث نما سرحدی علاقے کا کنٹرول دینے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ فیشخابور کے علاقے میں زاخو اور ربیعہ کے مابین واقع ہے۔ (۔۔۔)

 

بدھ – 5 صفر 1439 ہجری – 25 اكتوبر 2017ء  شمارہ: [14211]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>