جینیوا کی حمایت کے لئے سوچی پر ماسکو کی توجہ مرکوز - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 8 دسمبر, 2017
0

جینیوا کی حمایت کے لئے سوچی پر ماسکو کی توجہ مرکوز

آستانہ کا اجلاس کانفرنس کی تیاری ۔۔۔ "حزب اللہ” کا جنوبی شام جماؤ

کل ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران روسی فوج کے چیف اسٹاف کو دیکھا جا سکتا ہے (اے پی اے)

ماسکو: طه عبد الواحد بيروت: يوسف دياب

         کل روسی وزارت دفاع نے ایئر فورسز کی کاروائیوں کے تسلسل کے ساتھ شام میں داعش کے اختتام کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب ماسکو نے جنیوا کی کاروائی کی مدد کے لیے سوچی میں شامی قومی گفتگو کانفرنس منعقد کرنے پر اپنی توجہ کو مرکوز کر لیا ہے۔(۔۔۔)

         انٹرفاکس ایجنسی نے بتایا ہے کہ اس ماہ کی 21 اور 22 تاریخ کو آستانہ کے اجلاسوں میں ماہ کے اخیر میں ہونے والے سوچی کانفرنس کی تیاری کے سلسلہ میں گفتگو کی جائے گی۔(۔۔۔)

          اس سلسلہ میں الجیش الحر کی جاعتوں نے شام کے جنوب میں لبنان کے حزب اللہ اور شامی حکومت کی طرف سے کی جانے والی خفیہ نقل وحرکت کے سلسلہ میں پرزور انداز میں بتایا ہے اور یہ نقل وحرکت "مثلث الموت” نامی علاقے میں ہو رہے ہیں جو شمالی ریف درعا کو مغربی ریف دمشق اور جنوب کے شمالی ریف القنیطرہ کے ساتھ جوڑتا ہے۔(۔۔۔)

جمعہ – 20 ربيع الأول 1439 ہجری – 08 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14255)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>