5 سال بعد سعودی عرب - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سلمان الدوسری
کو: جمعرات, 21 دسمبر, 2017
0

5 سال بعد سعودی عرب

سلمان الدوسری

       سعودی عرب تقریبا تین سالوں سے بے مثال انداز میں تبدیل ہوگیا ہے، بڑے پیمانے پر معاشی اصلاح، متوقع سماجی اصلاحات، ریاستی اداروں اور انتظامیہ میں جدت، ان کے قوانین اور قواعد وضوابط میں ترقی، انتہا پسندی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا، بدعنوانی کے خلاف جنگ، وہ منصوبے جو کبھی خواب تھے حقیقت بن گئے، اور پرسوں سعودیہ کے بجٹ نے ہمیں بہترین حیرت میں ڈال دیا کہ جب اعلان کیا گیا کہ آئندہ سال اخراجات کو صرف تیل کی بجائے مختلف ذرائع سے فنڈ فراہم کیا جائے گا۔ اس بجٹ کا انحصار تیل کی پیداوار پر 50 فیصد، غیر پیٹرولیم پر 30 فیصد، 12 فیصد سالانہ قرضوں پر اور 8 فیصد حکومتی فنڈنگ پر ہوگا۔ کون یقین کرے گا کہ سعودیہ جو کہ تیل پر تقریبا 90 انحصار کرتا ہے وہ صرف تین سال میں اس میں کمی لا کر 50 فیصد تک کر لے گا۔

      یہاں ہم وہ لمحہ یاد دلاتے ہیں کہ جب 25 اپریل 2016 کو سعودی عرب کی حیثیت کو عرب و اسلامی اعتبار سے ۔۔۔ سرمایہ کاری کے اعتبار سے ۔۔۔ تین براعظموں کو جوڑنے والے مرکز کے اعتبار سے ایک ضخیم معاشی منصوبے "وژن 2030” کا اعلان کیا گیا تھا۔ (۔۔۔)

      مملکت میں حیرت انگیز اندرونی نقل و حرکت کے برعکس علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سعودیہ کی خارجہ پالیسی میں پوزیشن بحالی ہے۔ یہاں پر اٹھنے والے کئی سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ: سعودی عرب نے اس نازک مرحلے میں کیوں اس قدر حساس اور خطرناک فائلیں کھول دیں ہیں؟! یمن میں جنگ، قطر سے قطع تعلق، ایرانی ملیشیاؤں کا مقابلہ اور دیگر فائلیں وغیرہ۔

      یہ ایک جائز سوال ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب نے ان فائلوں کو تاخیر سے نہیں کھولا بلکہ ان ریاستوں کے ان زیر التوا بحرانوں نے اسے کھولا ہے اور مملکت سعودیہ نے گذشتہ دو دہائیوں میں بہت کچھ کھویا ہے۔ ریاض نے اب جو کیا ہے وہ صرف ان فائلوں کو بند کرنے کی منصوبہ بندی کے لئے کمر کسی ہے۔ (۔۔۔)

      سعودی عرب میں اندرونی اور بیرونی اعتبار سے جاری اس عظیم تحریک سے ملک آنے والے چند سالوں میں ایک بہترین مستقبل پیش کرے گا۔ (۔۔۔)

     بھرحال سعودی عرب اپنے شہریوں کی مدد سے، اپنی صلاحتیوں پر اعتماد کرتے ہوئے، خطرات سے کھیلتے ہوئے مستقبل کی جانب چھلانگ لگا رہا ہے۔ 5 سال بعد سب یاد کریں گے کہ یہ کیسے اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگیا اور انہیں حقیقت کر دکھایا جبکہ بہت سے اس سے خائف تھے اور اسے ناممکن تصور کرتے تھے۔

 

جمعرات – 3 ربيع الثاني 1439 ہجری – 21 دسمبر 2017ء  شمارہ: [14268]
سلمان الدوسری

سلمان الدوسری

محترم جناب سلمان الدوسری صاحب نے بزنس ایڈمنسٹریشن اور معاشیات میں گریجویشن کیا ہے۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز2004ء میں شرق الاوسط بحرین کے نامہ نگار کے طور پر شروع كيا تها- اس سے پہلے سن 1998ء میں ایس آر ایم جی میں ریاض کے اخبار الاقتصادیہ میں فری لائنس صحافی كى حيثيت سے كا كيا تها۔ سن 2006 میں انہیں شرق الاوسط متحدہ عرب امارات بیورو کے سینئر ایڈیٹر منتحب ہوئے۔ تین سال قبل الدوسری کو شرق الاوسط کے اشاعتی ہیڈ کوارٹرز لندن کا اسسٹنٹ چیف ایڈیٹر مقرر کیا گیا اور اکتوبر 2011ء میں الدوسری الاقتصادیہ کے چیف ایڈیٹر بن گئے۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>