دوحہ اور ہتھیار خریدنے کی پالیسی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عبد الرحمن الراشد
کو: جمعہ, 22 دسمبر, 2017
0

دوحہ اور ہتھیار خریدنے کی پالیسی

عبد الرحمن الراشد

         اگر ایک طرف قطر کے حجم کو اس کے طول وعرض اور وہاں رہنے والے شہریوں کی تعداد کے اعتبار سے دیکھا جائے اور دوسری طرف اس کے حالیہ فوجی معاہدوں کو دیکھا جائے تو یہ معاہدے قطر جیسے دس گنا بڑے ملک کی حمایت کے لیے کافی ہوں گے۔

         قطر نے اختلاف کے آغاز ہی سے بہت سارے اسلحے خرید رکھا ہے۔(۔۔۔) اور ان میں سے زیادہ تر سیاسی مقاصد والے معاہدے سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین جیسے چاروں ممالک کے خلاف بڑی حکومتوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے ہیں۔ پہلے معاہدہ سے لے کر اب تک کے معاہدوں نے ان چاروں ممالک کی کاروائیوں کو ختم کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا ہے اور ان سے صرف سیاسی طور پر بعض بیانات کے ذریعہ مصالحت کرنے اور حصار کو ختم کرنے کے لیے خدمت لی گیئ ہے لیکن دوسرے فریق نے اس پر کوئی توجہ نہیں دیا ہے۔

         قطر کے خلاف زمانہ نے یہ گردش دکھایا کہ جو اسلحے اس نے خریدے تھے وہ خلیج تعاون کونسل کی وجہ سے چاروں ممالک کی خدمت میں آ گئے اور ان اسلحوں سے قطر کی خدمت زیادہ تر نہیں ہو سگی لیکن اگر یہ اجتماعی دفاع کے دائرہ میں ہو تو قطر کا فائدہ ہو سکتا ہے، لہذا قطر کا جلد بازی میں ان ہتھیاروں کے خریدنے اور اس کا ذخیرہ کرنے سے ریاض اور اس کے حامی تین ممالک خوف زدہ نہیں ہیں بلکہ آئندہ چار سالوں کے درمیان قطر کا بحران ختم ہونے کی حالت میں یہ اسلحے ان کے لیے مفید ثابت ہوں گے اور فرضی طور پر یہ سال ہتھیار کی پیداوار کی تکمیل اور اس کے وصول کرنے کا زمانہ ہے اور یہ اختلافات جس کے بارے میں امکان ہے کہ مزید ایک سال رہیں گے وہ تو پوری زندگی باقی نہیں رہیں گے اور میں یہ نہیں کہ سکتا ہوں یہ کیسے ختم ہوں گے، یہ محبت کے طور پر یا ڈرامائی انداز میں ختم ہوں گے لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ اس بحران سے قطر کو نقصان ہوا ہے جبکہ چاروں ممالک کے سامنے یہ تو بہت ہی چھوٹا سا مسئلہ ہے۔(۔۔۔)

         حالیہ نتیجہ کے طور پر دوحہ کے یہ بہت سے فوجی معاہدوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے اگر چہ اس کا مقصد سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین کو محاصرہ کے ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بڑے ممالک کو اپنی طرف کرنا تھا۔(۔۔۔)

        اگر ان بڑے ممالک کے مواقف قطر کے حق میں ہوتے تب بھی جو اسلحے قطر نے خریدا ہے وہ مفادات اور فائدے کے طور پر ان چاروں ممالک کے مقابلہ میں نہیں تھے اور ہمیں یہ یاد کرنا ضروری ہے کہ یہ بڑے ممالک اپنے فیصلے ملتوی کر سکتے ہیں لہذا یہ وقت قطر کے حق میں نہیں ہے اور رہی بات چاروں ممالک کی تو ان پر کسی کا دباؤ نہیں ہے بلکہ احساس یہ ہے کہ سرحدوں کو بند کرنے اور معاملات کو موقوف کرنے کی وجہ سے دوحہ اپنے داخلی مسائل کو حل کرنے سے محروم ہو گیا ہے۔

جمعہ– 03 ربيع الثانی 1439 ہجری – 22 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14268)

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>