نقد اور دشوار کن انتقال - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عبد الرحمن الراشد
کو: جمعرات, 28 دسمبر, 2017
0

نقد اور دشوار کن انتقال

عبد الرحمن الراشد

         مخالف ماحول میں کسی کام کی مارکیٹنگ آسان نہیں ہے اور اسے سے بھی سخت ان لوگوں کو مطمئن کرنا ہے جو ہمیں جانتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں اس امت کا بدلنا ناممکن ہے، سعودی عرب میں جو تبدیلی اور ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ کی طرف منتقل ہونے کی جو فضاء عام ہے اسے اسی بات کا سامنا ہے اور خاص طور پر اس وقت اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ دوسرے ممالک میں اقتصادی، میڈیاء اور سیاسی اداروں کے سلسلہ میں گفتگو کرتا ہے۔

         فطری بات ہے کہ یہ لوگ متعینہ وقت کے قریب ہونے کا انتظار نہیں کریں گے تاکہ وہ اپنے شکوک وشبہات کی تعبیر اور اپنے احکامات جاری کر سکیں کیونکہ انہوں نے یہاں وہاں اپنے بہت زیادہ تجربات کی روشنی میں ناکامی ہی ناکامی دیکھی ہے اور ان کو اس بات کا مکمل حق ہے اور حکم تو نتائج پر ہی لگایا جاتا ہے، خواب اور عزم وارادہ کے ساتھ ہی کام آگے بڑھتا ہے اور کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے اور اسی وجہ میں میں کہتا ہوں کہ یہ معاملہ ہم پر ہے کہ ہم اسے سمجھیں اور قبول کریں۔

         میں ان میڈیاء ہاؤس اور غور وفکر کرنے کے اداروں میں تجزیہ نگاروں اور ایڈیٹروں کی طرف سے شک پیدا کرنے کی کاروائی کو سمجھتا ہوں جہاں ترقی یافتہ ممالک میں اکثر وبیشتر ترقیاتی منصوبے بہت زیادہ گہرے نہیں ہوتے ہیں، عام طور پر وہ قومی یا انتخابی جشن کے طور پر شروع ہوتے ہیں پھر اخیر میں سرکاری خیال کی ناولوں کی شکل میں صرف ادبی کام کے طور پر باقی رہ جاتے ہیں۔(۔۔۔)

        بغیر مدد اور امداد حاصل کئے حقیقی قیمت کو صحیح کرنے کے سلسلہ میں نئے فیصلے آسان نہیں ہیں، بہت کم یہ تصدیق کیا جاتا ہے کہ حکومت سیاسی طور پر اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالنے کے لیے تیار ہے لیکن اس نے ایسا کیا اور مدد کرنے کی پالیسیاں تو حقیقت میں وقتی ہوتی ہیں اور جب یہ مدد کی پالیساں ہمیشہ ہوتی ہیں تو ان سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے، ماضی میں ہمیشہ نہ رہنے والے وقتی مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں سیاسی حل آسان تھے اور حکومت انہیں بدلنے کے سلسلہ میں جرات نہیں کرتی تھی۔(۔۔۔)

        یہ بات طے ہے کہ سیاسی لوگ اپنے شہریوں کی مدد کر کے، ان کو چھٹی دیکر اور ہر اس چیز کے ذریعہ جو ان کو خوش کرنے والی ہے اس کے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن یہ چیزیں ان کی مفاد میں نہیں ہوتی ہیں کیونکہ ایک تاریک دن آئے گا جس دن یہ فیصلہ کرنے والے نوکری، اجرت اور سروس کی حفاظت نہیں کر سکیں گے، یہ کوئی مثال یا بدشگونی پر مبنی فکر نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں ہم اپنے نہ بدلنے والی صورتحال سے اخذ کرتے ہیں۔(۔۔۔)

         ضروری ہے کہ آفتاب کے نیچے ہماری ایک جگہ ہو اور دنیا صرف ترقی یافتہ ممالک کا احترام کرتی ہے اور جہاں تک میڈیاء کی بات ہے تو وہ اسے اس وقت حرکت میں نہیں لا سکتا ہے جب وہ ممالک اپنے آپ کو ثابت کرنے پر قادر ہوں گے۔(۔۔۔)

        آخری مقصد یہ ہے کہ یہ سماج اس ماحول سے نکلے جس میں زندگی گزار رہا تھا، اس حکومت پر بوجھ تھا جو خود اس سامان تجارت کی آمدنی پر منحصر تھی جو دور دراز تاجروں کے ایسے ہاتھوں میں ہوتا جنہیں مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ اور تکنیکی ترقیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

        یہ مرحلہ انتقالیہ ہے اور اس کی متعینہ مدت بارہ سال ہے، ہم اسے ہنگامی صورتحال کہ سکتے ہیں، لہذا دونوں فریق کی طرف سے برداشت کرنا لازم ہے۔

جمعرات – 10 ربيع الثانی 1439 ہجری – 28 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14275)

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>