ایران میں وسیع پیمانے پر مظاہرے اور سرکاری خاموشی کا خاتمہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 30 دسمبر, 2017
0

ایران میں وسیع پیمانے پر مظاہرے اور سرکاری خاموشی کا خاتمہ

  • تہران اور بڑے شہروں میں مظاہرے اور حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان الزامات کا تبادلہ
  • سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعہ سرگرم کارکنوں کی طرف سے نشر کردہ ایک تصویر جس میں کل خصوصی پولیس فورسز کو ایران کے مغربی کنارے میں واقع کرمانشاہ کے اندر مظاہرین کو روکنے کے لئے آگے بڑھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے

  • لندن: عادل السالمي
  •           کل ایران میں بنیادی چیزوں کی قیمت میں زیادتی، معاشی صورتحال کی بدتری، حکومت کے کردار اور علاقائی انتظامیہ کے رویہ کی وجہ سے مظاہرے کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے اور اب یہ مظاہرے تہران اور بڑے شہروں تک پہنچ گیے ہیں اور سرکاری خاموشی بھی اس طور پر ٹوٹ چکی ہے کہ انتظامیہ کے دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔
  •          مک کے مغرب میں واقع کرمانشاہ کے علاقہ میں پولس فورسز نے مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ چھڑپ کرنے سے پہلے آنسو گیس چھوڑنے اور قدرے تشدد کا طریقہ اختیار کیا ہے۔(۔۔۔)  
  •          سرکاری ذرائع ابلاغ نے ذمہ داروں کی زبانی ان تنبیہات کو نشر کرنے پر اکتفاء کیا ہے جن میں مظاہرہ میں شرکت کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔
  •          پاسداران انقلاب کے ذرائع ابلاغ نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہونے کا اقرار کیا ہے لیکن اس نے اس کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی ہے اور اس کی معاشی صورتحال پر تنقید بھی کی ہے۔  
  • ہفتہ – 12 ربيع الثانی 1439 ہجری – 30 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14277)
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>