مصر کے قبطی دوبارہ داعش کے نشانہ پر - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 30 دسمبر, 2017
0

مصر کے قبطی دوبارہ داعش کے نشانہ پر

جنوبی قاهره میں واقع چرچ میں ہوئے حملہ کے  نتیجہ میں نو ہلاک اور اسی حملہ آور نے گزشتہ حملوں کو انجام دیا

پولس کے عناصر اور محققین کو قاہرہ کے جنوب میں واقع چرچ پر ہوئے حملہ کی جگہ کا معائنہ اور دلائل تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

قاہرہ: ولید عبد الرحمن

        قبطی عوام دوبارہ دہشت گردی کے نشانہ اس وقت بنی جب ایک مسلح حملہ آور نے قاہرہ کے جنوب میں واقع حلوان کے ایک چرچ پر حملہ کیا جس میں نو افراد ہلاک ہوئے اور اس حملہ کی ذمہ داری داعش نے لی ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ حملہ آور کے سلسلہ میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اسی نے سابقہ حملوں کو انجام دیا ہے۔

        وزارت داخلہ میں میڈیاء پولس سنٹر کے ذمہ دار نے کہا کہ مارمینا چرچ کے سلامتی ادارہ نے موٹر سائکل چلاتے ہوئے ایک نامعلوم شخص کو چرچ کے داخلی سیکورٹی دائرہ کو کراس کرنے کی کوشش کرتے ہوئے روکا اور فوری طور پر اس کے ساتھ نپٹا گیا، آخر کار اسے زخمی کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا اور اس کے پاس ایک خودکار ہتھیار، گولا بارود، دھماکہ خیز میٹیریل اور دیگر چیزیں پائی گئیں ہیں اور اس حملہ میں ایک پولس سیکریٹری، چھ شہری ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک پولس سیکریٹری بھی ہے اور انہوں نے یہ اشارہ بھی کیا کہ اس دہشت گرد نے ایک تجارتی دوکان کی طرف بھی کئی گولیاں چلائی جس کی وجہ سے دو شہری ہلاک ہوئے جو دوکان کے اندر تھے۔(۔۔۔)

ہفتہ – 12 ربيع الثانی 1439 ہجری – 30 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14277)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>