ایران کو داخلی اور خارجی دھمکیوں کا سامنا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عبد الرحمن الراشد
کو: جمعہ, 5 جنوری, 2018
0

ایران کو داخلی اور خارجی دھمکیوں کا سامنا

عبد الرحمن الراشد

          ایرانی کشمکش کے ایک ہفتہ کے بعد حسن نصر اللہ نے اپنی اس پارٹی کی شکل وصورت کے خلاف دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے خوف وخدشہ کا اظہار کیا ہے جس کی بنیاد ایران نے علاقہ میں ترقی یافتہ طاقت بننے کے لیے رکھی ہے اور انہوں نے ایران کے اندر جو مظاہرے ہو رہے ہیں اس کے سلسلہ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ اور سعودی عرب کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ اس فقیہ کی حکوت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والے افراد کا پیغام عرب میلیشیاؤں کے رہنماؤں اور ان لوگوں تک پہنچ چکا ہے جو ایرانی عوام کے حساب پر زندگی گزار رہے ہیں اور یہ پیغام ان کے ماتحتوں تک پہنچنا ضروری ہے جو روزانہ شام میں لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور یہ لوگ مرشد اعلی کی انتظامیہ کی نیابت میں اپنی جان دے رہے ہیں۔

          ایران کے مظاہرے خالص ایرانی مظاہرے ہیں نہ کی سعودی اور امریکی مظاہرے ہیں اور اس میں کسی خارجی ہاتھ کا دخل نہیں ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر انتظامیہ علاقہ کے ممالک کو دھمکی دینے کا رویہ اس کے دشمن کو مالی مدد کرکے اور میزائل کے ذریعہ ان کے شہروں کو نشانہ بنا کر مسلسل اختیار کرتا رہے گا تو دنیا کے ممالک ان مظاہرہ کرنے والوں کی مدد کرنے کے کیے مستقبل میں ہرگز اٹھ کھڑے نہیں ہوں گے اور آج ایران وہ مضبوط قلعہ نہیں ہے جسے ہم جانتے تھے بلکہ ایک کھلی ہوئی ایسی زمین ہے جس میں جو چاہے مظاہرہ کرنے والے کی مدد کر سکتا ہے۔(۔۔۔)

         ایرانی عوام کی اس بیداری نے نصر اللہ، عراق، لبنان، شام اور یمن کے اندر شیعی میلیشیاؤں کے دیگر رہنماؤں اور بحرین، کویت، سعودی عرب، نائجیریا، پاکستان اور دیگر ممالک میں دہشت گرد شیعی مخالف جماعتوں کو ڈرا کر رکھ دیا ہے۔(۔۔۔) فقیہ کی حکومت کی انتظامیہ میں دہشت گرد فکر غالب ہے اور خلافت کا دہشت پسند ملک بنانے کے سلسلہ میں داعش نامی سنی تنظیم کا بھی یہی فکر تھا اور آیۃ اللہ کی حکومت داعیوں، میلیشیاؤں، خودکشی کرے والے افراد، انٹیلیجنس اور خفیہ جماعتوں کی حکومت ہے جو مال کی صفائی کے لیے اپنی کاروائیوں کی فنڈنگ کرتی ہے اور نشہ آور چیزوں کی اسمگلنگ اس طرح کرتی ہے کہ ملک پر اپنی دسترس حاصل کرنے کے سلسلہ میں اس کی حد کو نہیں جانا جا سکتا ہے اور ہر علاقہ میں اس کی بالادستی حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے اور جس طرح بین الاقوامی سماج نے داعش اور القاعدہ کے خلاف اجتماعی طور پر جنگ کیا دنیا کے بہت سارے ممالک ایران کی خطرناکی کو دیکھ رہے ہیں جو مشرق وسطی ہی کے لیے خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ بین الاقوامی پریشانی ہے۔ مظاہرہ میں مزید اضافہ ہونا اہم ہے جس نے حکومت کو کمزور کر دیا ہے اور یہ حکومت داخلی طور پر اہل ایران سے اور خارجی طور پر بین الاقوامی وعلاقائی طاقت سے محصور ہو چکی ہے اور دونوں فریق یہ چاہتے ہیں کہ یہ انتظامیہ بدل جائے یا گر جائے اور اس کی سب سے پہلی ذمہ داری ہے کہ یہ اس کا خارجی دہشت گرد نیٹ ورک ختم کرے جو پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اور ایرانی عوام کا پیسہ چوس رہا ہے۔(۔۔۔)

         سنہ 2017 میں گشتہ جمعرات کے دن ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے وہ ایران نہیں رہا جسے ہم نے جانا ہے کیونکہ علاقائی زلزلہ امریکہ کی دھمیکیوں سے زیادہ خطرناک ہے۔

جمعہ – 18 ربيع الثاني 1440 ہجری – 05 جنوری 2018ء  شمارہ نمبر: (14283)

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.