بیت المقدس کو فلسطینی حکومت کا دار الخلافت مانتے ہوئے اسے قائم کرنے کے سلسلہ میں خادم حرمین کی طرف سے سعودی عرب کے ثابت شدہ موقف کا اعلان - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 10 جنوری, 2018
0

بیت المقدس کو فلسطینی حکومت کا دار الخلافت مانتے ہوئے اسے قائم کرنے کے سلسلہ میں خادم حرمین کی طرف سے سعودی عرب کے ثابت شدہ موقف کا اعلان

موبائل کے ذریعہ فلسطینی صدر کے ساتھ گفتگو

طرابلس: "الشرق الاوسط اونلاين”

            خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزيز نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے فون پر گفتگو کی ہے۔

         خادم حرمین شریفین نے گفتگو کے دوران بیت المقدس کو فلسطینی حکومت کا دار الخلافت مانتے ہوئے ایک خود مختار ملک قائم کرنے کے لیے فلسطینی مسئلہ اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے سلسلہ میں سعودی عرب کے ثابت شدہ موقف کا اعلان از سر نو کیا ہے اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق فلسطینی مسئلہ کا مستقل اور انصاف پر مبنی حل تلاش کرنے کے لیے مسلسل کوشش جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

         اسی سلسلہ میں فلسطینی صدر نے خادم حرمین شریفین کا بہت زیادہ شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے فلسطین اور اہل فلسطین کے لئے ہمیشہ تاریخی طور پر تعاون کیا ہے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

بدھ – 23 ربيع الثاني 1440 ہجری – 10 جنوری 2018ء  شمارہ نمبر: (14288)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>