اوبامیت کے یتیم افراد - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 26 جنوری, 2018
0

اوبامیت کے یتیم افراد

مشاری الذایدی

         ایک مرتبہ سے زیادہ ہم سوال کر رہے ہیں کہ کیا علم اور عصبیت فیصلہ کرتے ہیں کہ انسان دوسرے کی تلوار کی پیروی کرے اور اس کے ذریعہ وہ اس شخص سے جنگ کرے جو اس کا دشمن نہیں ہے اور یہ جنگ اس شخص کے مفاد میں ہو جس پر اسے یقین نہیں ہے؟

         اس کی تاویل یہ ہے کہ سعودی عرب اور تمام خلیجی ممالک کا فائدہ کس میں ہے بلکہ میں تمام کیڈیاز سے دور ہو کر گہرے غور وفکر کے بعد کہتا ہوں کہ تمام خلیجی ممالک اور ایران کی خمینی اور دیگر انارکی کی جماعتوں سے جس کو بھی نقصان ہے اسے اس موجودہ امریکی انتظامیہ کو نشانہ بنائے جانے سے کیا فائدہ ہے جس نے ایرانی دست ورس اور ظاہرا اسلامی سیاست کی جماعتوں سے جنگ کرنے کو ترجیحی حیثیت دی ہے؟

         یہ سوال کیا جا رہا ہے اور ہم روزانہ بعض میگزین کے ڈائز سے خاص طور پر آخری صفحہ کے مقالات اور خلیج کی ٹیوی پر سنتے اور دیکھتے ہیں کہ کس نے امریکی صدر پر تنقید کرنے ہی کو نہیں بلکہ ہم کو ان سے ڈارانے اور ان کے گالی دینے کو پیشہ بنایا ہے، کبھی تو وہ اسے ایسا پیش کرتا ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہے اور ایسا بھی لگتا ہے کہ وہ روس کے ساتھ منسلک ہے یا اس طرح کے دیگر بے بنیاد باتیں جسے اوباما اور اوبامیت کی ہمنوا میڈیا امریکہ کے اندر اور باہر یش کرتی ہے۔(۔۔۔)

        اس مناسبت سے معاملہ کو بالکل واضح ہونا ضروری ہے یہاں تک کہ وضاحت کے بعد بھی الزام لگانے والے اور کسی معاملہ میں شک پیدا کرنے والے اسے صحیح سمجھتے ہیں! اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم اخوان کے نیٹ ورکوں اور خمینی دست ورس کے سلسلہ میں ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے بارے میں متعینہ شکل میں گفتگو کرتے ہیں اور کم سے کم ایسا ہی آج تک ہم محسوس کرتے ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امریکہ کے سیاسی مواقف ابھی سعودی عرب کی مدد کر رہے ہیں اور یمن کی جنگ میں اس فوجی، انٹیلیجنس اور لوجسٹک مدد نے اوبامیت کے یتیموں کے پاس اس کے چلے جانے کے زمانہ کو برعکس کر دیا ہے۔

         تب تو ہم ان پالیسیوں کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ناکہ فلسطین کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں کیونکہ اس مسئلہ میں اس کے مفاد کی وجہ سے گفتگو کرنا مسئلہ کے منطق وحقیقت بلکہ صاف موقف سے تجاوز کرکے زیادہ باتوں کی طرف منتقل ہونا ہے اور صرف بعض عرب مسلمان کی طرف سے نہیں بلکہ امریکہ کے اندر ٹرمپ کے دشمنوں کی طرف سے بھی ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اوباما کے وزیر خارجہ جون کیری نے فلسطین کے صدر کو اس بنیاد پر آمادہ کیا کہ اوباما بیت المقدس کے حامی ہیں!

        گفتگو کا خلاصہ اخوان اور خمینی کے سلسلہ میں ٹرمپ کی سیاست واضح ہے اور نقصان زدہ کو مسلسل آہ وگریہ زاری کرنا ہے۔

جمعہ – 28 جمادی الاول 1440 ہجری – 26 جنوری 2018ء  شمارہ نمبر: (14304)

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>