عدن میں غصہ کی لہر، اور قانونی حکومت "انقلاب" سے خبردار کر رہی ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 29 جنوری, 2018
0

عدن میں غصہ کی لہر، اور قانونی حکومت "انقلاب” سے خبردار کر رہی ہے

15 ہلاکتیں اور درجنوں زخمی۔۔۔ یمنی وزارت داخلہ کی طرف سے "صورتحال کنٹرول میں ہونے کی” یقین دہانی

یمنی وزارتی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کا منظر، جو جھڑپوں کے بعد منعقد کیا گیا (سباء)

 

صنعاء – عدن: "الشرق الاوسط”

       یمنی وزارت داخلہ نے بیان دیا ہے کہ کل یمن کے عارضی دارالحکومت عدن میں دیکھی گئی غصے کی لہر کے بعد سیکورٹی صورت حال کنٹرول میں ہے، جبکہ اس دوران "جنوبی انتقالی کمیٹی” نامی جماعت کے مسلح افراد نے سرکاری دفاتر پر حملہ کیا اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ان کی جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔

      نیوز ایجنسیوں نے مقامی اور طبی ذرائع سے نقل کیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران کم سے کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ دریں اثناء یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے فوری طور پر فائر بندی کرنے اور فورسز کو بیرکوں میں واپس جانے کا حکم دیا۔

      وزیر اعظم احمد عبید بن دغر نے ان واقعات کو "انقلاب کی کوشش” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورت حال ایک "جامع فوجی تصادم” کی جانب بڑھ رہی ہے اور اس سے صرف حوثی ملیشیاؤں اور ایران کو فائدہ ہوگا۔ (۔۔۔)

 

پیر – 12 جمادى الأولى 1439 ہجری – 29 جنوری 2018ء  شمارہ: [14307]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>