"حزب اللہ" ڈالر سے محروم - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 1 فروری, 2018
0

"حزب اللہ” ڈالر سے محروم

 

سلمان دوسری

       فنڈنگ، فنڈنگ اور فنڈنگ، اگر ایک بار اسے انتہا پسند جماعتوں تک پہنچنے سے روک دیا جائے تو نتیجہ میں یہ جماعتیں، گروہ اور افراد خود ختم ہو جائیں گے، دیہائیوں سے ان جماعتوں کی فنڈنگ کا عمل نہ رک سکا، ہیرا پھیری کرتے ہوئے یہ بینکنگ کے نظام فائدہ اٹھاتے ہیں، اس طرح دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں میں مالی امداد کرنے وہ یہ حصہ دار ہے۔ لیکن یہ دور گزر چکا ہے اور اب انتہا پسندوں کے لئے فنڈز کی منتقلی ایک پیچیدہ امر بن چکا ہے۔ اس اسے عالمی بینکنگ کے نظام سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن اسی وقت ایک بری خبر یہ ہے کہ  ان انتہا پسند جماعتوں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ انہیں متوقع امداد ممالک یا افراد سے بینکوں یا ترسیل کے ذریعے موجودہ کیش کی شکل میں پہنچے، اور یہی اصل چیز ہے۔ بینکنگ کے نظام میں انتہا پسند افراد یا جماعتوں کو تو رقوم کی ترسیل سے روکا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی ملک ایسا کرنا چاہے تو اسے نہیں روکا جا سکتا۔ (۔۔۔)

       جیسا کہ لبنان میں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ "حزب اللہ” کو فنڈنگ منشیات کی منی لانڈرنگ سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ جرمن میگزین "دیر سپیگل” نے انکشاف کیا تھا جب یورپ میں 75 ملین ڈالر کی رقم کو حزب اللہ کے جنوبی دیہات میں واقع ہیڈ کوارٹر میں بھیجنے سے قبل منی لانڈرنگ کے ذریعے حزب اللہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا گیا۔ شبہ ہے کہ لبنان کے باہر سے آنے والی فنڈنگ پارٹی کے فنڈز کا صرف 30 فیصد ہے جبکہ باقی تمام تر فنڈز ایران سے آتے ہیں۔ (۔۔۔)

       ریاست ہائے متحدہ امریکہ اپنے ڈالرز کو "حزب اللہ” اور دیگر انتہا پسند جماعتوں تک پہنچنے سے صرف اسی صورت روک سکتا ہے، اگر یہ بین الاقوامی بینکنگ کے نظام سے بھیجے جائیں، لیکن وہ دیکھتا ہی رہ جائے گا جب قاسم سلیمانی کی منصوبہ بندی سے پاسداران انقلاب واشنگٹن کی سوچ سے بھی دور محفوظ شہری پروازوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی کرتے ہیں (۔۔۔)۔ اصل چیلنج ایرانی شہری پروازوں اور سرکاری وفود کے ذریعےانتہا پسندوں کو کیش رقوم کی منتقلی کو روکنا ہے اور یہ اس وقت تک ہرگز نہیں ہو سکتا جب تک کہ "حزب اللہ” ایئرپورٹس پر کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے (۔۔۔)۔

       چنانچہ ممالک؛ جیسے ایران اور قطر، کی حمایت یافتہ دہشت گردی سب سے زیادہ خطرناک ہے، جو کہ عالمی قوانین اور نظاموں سے دور جاری و ساری ہے ۔ اسی وجہ سے "حزب اللہ” اور دیگر انتہا پسند جماعتوں کو ڈالر پہنچ رہے ہیں۔ لہذا آدھی کہانی انتہا پسندوں کو فنڈنگ سے روکنے کے قوانین کی صورت میں ہے جبکہ دوسری آدھی اور اہم ترین ان ممالک کو روکنا ہے جو دہشت گردی کو خفیہ طور پر اور علی الاعلان فنڈنگ فراہم کرتے ہیں اور اپنے ان اقدامات کے نتائج پر توجہ نہیں دیتے۔

 

جمعرات – 15 جمادى الأولى 1439 ہجری – 01 فروری 2018ء  شمارہ: [14310]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.