کردوں کے بھاری ہتھیار کی وجہ سے امریکی ترکی تنازعات میں اضافہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 16 فروری, 2018
0

کردوں کے بھاری ہتھیار کی وجہ سے امریکی ترکی تنازعات میں اضافہ

اردن کے شاہ کی طرف سے شام کے بحران میں پوٹین کے کردار کی تعریف اور ماسکو کی طرف سے امریکی حملہ میں ایک روسی فرد کی موت کی تصدیق

کل ماسکو میں روسی صدر کو اردن کے شاہ کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

ماسكو: رائد جبر انقرة: سعيد عبد الرازق

          انقرہ نے واشنگٹن سے از سر نو کردی قوم کی اس حمایتی یونٹس سے جس میں شام کی ڈیموکریٹک فورسز کا مرکزی کردار ہے ان سے شام کے مشرق میں بھاری ہتھیار لینے کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی وجہ سے امریکہ اور ترکی تعلقات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔(۔۔۔) اور کل شام امریکی وزیر اور ترکی صدر رجب طیب اردوگان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کرد کو ہتھیار فراہم کرنے کی فائل ہی غالب رہی۔(۔۔۔)

          اسی سلسلہ میں اردن کے شاہ عبد اللہ ثانی نے کل ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران شامی بحران کو حل کرنے کے سلسلہ میں روس اور صدر پوٹن کے کردار کی تعریف کی ہے۔

کل دوسری طرف روس نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ شامی انتظامیہ کے ہمنوا فورسز پر واشنگٹن کی رہنمائی میں بین الاقوامی اتحاد کی طرف سے کیے جانے والے حملہ میں ظاہری طور پر روس کے پانچ شہری ہلاک اور دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں اور یہ بھی واضح کیا کہ ان کا تعلق روس کی فوج سے نہیں ہے۔

جمعہ – 30 جمادی الاول 1440 ہجری – 16 فروری 2018ء  شمارہ نمبر: (14325)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>