سیاف کی گفتگو - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: بدھ, 21 فروری, 2018
0

سیاف کی گفتگو

مشاری الذایدی

          میں اس گفتگو سے حیران ہو گیا جو "الشرق الاوسط” کے ایک دوست ناصر الحقبانی نے افغانسان کے اندر اسی اور نوے دہائی میں جہاد کے ایک رہنماء عبد رب الرسول سیاف کے ساتھ کی ہے۔

         یہ ایسے شخص ہیں گویا کہ تاریخ کے نہاں خانوں سے نکلے ہیں، بس تھوڑی سی تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید ہو گیے ہیں اور انسان کے ساتھ زمانہ کا کرشمہ یہی ہوتا ہے۔

         افغانسان کی موجودہ صورتحال کے سلسلہ میں سیاف کی رائے سے پہلو تہی کرکے اگر گفتگو کریں تو ان کی گفتگو اس وقت سے لیکر آج تک سیاست اور ثقافت میں مشہور ومعروف شخصیات کے سلسلہ میں قابل توجہ ہے۔

        سیاف نے اسامہ ابن لادن کے ساتھ اپنے تعلقات اور ان سے اپنی پہلی ملاقات کے بارے میں گفتگو کی ہے اور ان کے ساتھ عبد اللہ عزام بھی تھے، انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان سے باہر ایک تقریب میں تھے اور اسی تقریب میں ہمارے ساتھ عبد اللہ عزام تھے اور میں ان دونوں سے ایک ساتھ متعارف ہوا۔(۔۔۔)

        انہوں نے مزید کہا کہ وہ ابن لادن اور ان کے صاحبزادے عبد اللہ کے ساتھ تھے اور وہ اس وقت چھوٹے تھے، اس وقت ان کا کوئی کام نہیں تھا بس وہ ہمارے ساتھ اس خندق میں اپنا وقت گزارتے تھے اور گھر کے باقی افراد اس وقت ان کے ساتھ نہیں تھے، یہاں تک کہ میں نے حمزہ کے بارے میں بھی نہیں سنا اور نہ میں نے ان کو دیکھا ہے۔

         جہاں تک دنیا کے اندر جہادیوں کے رمز، پیشاور کے مقتول اور سیاف کے دوست عبد اللہ عزام کی بات ہے تو انہوں نے ان کے سلسلہ میں بتایا کہ میرے پاس جہاد کے اسرار کے سلسلہ میں بہت سے حقائق اور دلائل ہیں اور انہیں میں عزام کے قتل کا بھی راز ہے جس سے میں فتنہ سے بچتے ہوئے صحیح وقت پر پردہ ہٹاؤں گا۔

         انہوں نے ہم سے عزام کے قتل سے قبل کچھ مناظر کے سلسلہ میں بتایا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ان کے آخری دنوں میں اس بات کا احساس کر رہے تھے اور انہوں نے ذرا کھل کر بتایا کہ میں نے ان کو قتل سے دو ماہ قبل ایک پر امن محاذ پر روانہ کیا تاکہ وہ ان تک پہنچنے والے ہاتھ سے محفوظ رہ سکے لیکن جب وہ پیشاور واپس آئے تو لوگوں نے انہیں قتل کر دیا۔(۔۔۔)

         آج ہم جو جماعتیں اور سیاستیں دیکھ رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر کا قیام افغانی مرحلہ سے ہوا ہے اور اس مرحلہ کو پیدا کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ زندہ ہیں جیسے قلب الدین حکمت یار اور عرب میں سے بھی زندہ ہیں اور اگر ہم زبانی، تحریری  اور مشاہداتی طور پر اس تاریخ کی توثیق کر دیں تو مفید ہوگا جیسا کہ عزام کے ماتحت جہاد نامی میگزین ہے۔

         اسی اور نوے کی دہائیوں میں افغانسان اور پاکستان کی سرزمین پر اس طرح کی جماعتیں بہت زیادہ پیدا ہوئی ہیں، القاعدہ یا الزرقاوی، المقدسی، المقرن، الظواہری اور رفاعی طہ جیسے جماعتیں آخری جماعت نہیں ہیں۔

        اسی وجہ سے میں نے سیاف کے ساتھ ناصر کی گفتگو کو سراہا ہے۔

بدھ – 05 جمادی الاول 1440 ہجری – 21 فروری 2018ء  شمارہ نمبر: (14330)

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>