دمشق کا غوطہ روسی فوج کی حراست میں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 24 مارچ, 2018
0

دمشق کا غوطہ روسی فوج کی حراست میں

پانی کے مقابلہ میں الاسد کے لئے نعرے اور عفرین اور منبج کے سلسلہ میں واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان مسلسل دوری

انقرة: سعيد عبد الرازق بيروت – لندن: "الشرق الاوسط”

        کل روس نے مشرقی غوطہ میں ایک دوسرے گروہ کے ساتھ ایک نئے معاہدہ پر دستخط کیا ہے۔(۔۔۔) اور اسی کے ساتھ غوطہ میں مخالف جماعتوں  کے آخری قلعہ دوما کے اندر مسئلہ کو حل کرنے کے لیے جيش اسلام کے ساتھ بھی مذاکرات ہوئے ہیں۔

        یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس معاہدہ میں یہ بات طے پائی کہ روسی فوج ان علاقوں میں متعین ہوگی جہاں سے مخالفین باہر آئیں گے اسی بات کی وجہ سے معاہدہ میں ماسکو کا کردار مضبوط ہوا ہے۔(۔۔۔)

        حزب اختلاف کے سرگرم کارکنوں نے ایک ویڈیو نشر کیا ہے جس میں پارلیمنٹ کے ایک ڈپٹی دکھایا ہے کہ وہ غوطہ کے بھوکے اور پیاسے افراد کو پانی دینے سے قبل ان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ بشار الاسد کی آواز بلند کریں۔(۔۔۔)

       اس کے علاوہ واشنگٹن کی قیادت میں "داعش” کے خلاف بین الاقوامی اتحاد نے عفرين میں ترکی کی طرف سے کی جانے والی زیتون کی شاخ نامی کاروائی پر تنقید کیا ہے اور زور دیا کہ منبج یا عفرين کے بارے میں ترکی سے کوئی افہام وتفہیم نہیں ہوگا۔(۔۔۔)

ہفتہ – 7 رجب 1439 ہجری – 24 مارچ 2018ء  شمارہ نمبر: (14361)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>