ایران میں "ٹیلگرام" پر پابندی کے بارے میں تنازعہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 2 اپریل, 2018
0

ایران میں "ٹیلگرام” پر پابندی کے بارے میں تنازعہ

فروری 2016 میں ایرانی مرشد اعلی کے ثقافتی امور میں مشیر غلام علی حداد عادل اپنے نائب کے ہمراہ "ٹیلیگرام” نیٹ ورک پر چینل کھولتے ہوئے (ایسنا)

 

 

لندن: "الشرق الاوسط”

        ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اہم ذمہ دار کے اعلان نے ایران میں شہریوں، پارلیمانی نمائندگان اور سیاسی افراد کے مابین ایک وسیع تر تنازعہ پیدا کر دیا ہے کہ حالیہ ماہ کی 20 تاریخ سے "ٹیلیگرام” اپلیکیشن کو بند کر دیا جائے گا۔ مقامی اپلیکیشنز کے متبادل کے ساتھ "ٹیلیگرام” کو بند کرنے کے اعلان کے بعد ایرانی پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی کمیٹی کے سربراہ علاء الدین بروگردی نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے سیکورٹی وجوہات قرار دیا۔ (۔۔۔)

 

پیر – 16 رجب 1439 ہجری – 02 اپریل 2018ء  شمارہ: [ 14370]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>