اتحادی حملے میں حوثی انقلاب کی دوسری اہم قیادت ہلاک - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 24 اپریل, 2018
0

اتحادی حملے میں حوثی انقلاب کی دوسری اہم قیادت ہلاک

صماد حدیدہ میں ہلاک ہوا ۔۔۔ سعودی عرب نے بلا کسی نقصان کے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے

اتحادیوں کی جانب سے نشر کردہ ویڈیو کی ایک تصویر جس میں فضا سے بمباری کو دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔ فریم فوٹو میں صماد ماہ کے آغاز میں اپنے حامیوں سے ملاقات کے دوران ("الشرق الاوسط”)

 

ریاض: عبد الہادی حبتور – جدہ: اسما الغابری – صنعا: "الشرق الاوسط”

      کل یقین دہانی کی گئی ہے کہ گذشتہ جمعرات کو یمن کے گورنریٹ حدیدہ میں یمن کی قانونی حکومت کے حمایتی اتحاد کے طیاروں کی بمباری میں حوثی انقلابی جماعت کی دوسری اہم قیادت صالح صماد ہلاک ہو گئے ہیں۔ (۔۔۔)

      صماد کا شمار یمن کی قانونی حکومت کے حمایتی اتحاد کی خطرناک ترین 40 مطلوبہ افراد کی فہرست میں عبد الملک کے بعد دوسرے نمبر پر مطلوبہ شخص کے طور پر تھا، جبکہ اس فہرست میں دہشت گرد حوثی جماعت میں دہشت گردی کی سرگرمیوں اور کاروائی میں ملوث قیادتیں اور ذمہ دار عناصر شامل ہیں، اور اتحادیوں نے اس میں شامل افراد کی گرفتاری کے لئے کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کرنے والے کے لئے 20 ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔

      دریں اثنا، کل حوثی ملیشیاؤں کی طرف سے یمن کی سرزمین سے جنوبی سعودی عرب کے شہر جازان کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو یمن میں قانونی حکومت کے حمایتی اتحاد کے ماتحت فضائی دفاع نے بلا کسی نقصان کے مار گرایا ہے۔

 

منگل – 8 شعبان 1439 ہجری – 24 اپریل 2018ء شمارہ نمبر:  [ 14392]
الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>