خفیہ جنگ کی وجہ سے ایرانی اور اسرائیلی کشمکش میں اضافہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 2 مئی, 2018
0

خفیہ جنگ کی وجہ سے ایرانی اور اسرائیلی کشمکش میں اضافہ

"موساد” ایجنٹوں کا تہران کے قریب "جوہری” سٹور تک رسائی اور میزائل گودام پر بمباری سے قبل شام کے راڈار کے سلسلہ میں تشویش

بیروت – لندن – تل ابيب: "الشرق الاوسط”

        مغربی سفارتی ذرائع نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ روایتی اور الیکٹرانک خفیہ جنگ کی وجہ سے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش میں اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی حکام نے شام میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست تصادم ہونے کی توقع کی ہے۔

       ذرائع نے واضح کیا ہے کہ شام میں خفیہ جنگ کے اشارے کئی مرتبہ ظاہر ہوئے ہیں اور تازہ ترین الیکٹرانک جنگ دو ہفتے پہلے شامی رڈار نظام کے خلاف ظاہر ہوا ہے۔(۔۔۔) ذرائع نے یہ بھی کہا کہ یہ تشویش اتوار اور پیر کی رات ہونے والے ان حملوں سے پہلے ریڈارز نظام کو چیک کرنا تھا جن حملوں میں ایران کے ریف حماۃ والے اس میزائل اسٹور کو اسرائیل نے نشانہ بنایا جسے ایران نے بہت پہلے جمع کیا تھا اور یہ حملہ اس حملہ کے جواب میں ہوا جو شام کے درمیان میں واقع ڈرون جہاز پر مشتمل ٹی فور نامی ایئر بیس پر کیا گیا تھا جہاں سے مقبوضہ شامی گولان کے ماحول کے لئے ایک جہاز کو بھیجا گیا تھا۔

       اسی سلسلہ میں ایک سینئر اسرائیلی سیکورٹی ذریعہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے دریافت کیا ہے کہ اسرائیلی موساد ادارہ کی طرف سے دراندازی کی کاروائی تہران کے قریب اس اسٹور میں ہوا ہے جس کا استعمال خاص طور پر ایٹمی پروگرام کی فائلوں کو رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے اسے تل ابیب منتقل کر دیا ہے۔(۔۔۔)

بدھ – 16 شعبان 1439 ہجری – 02 مئی 2018ء شمارہ نمبر:  (14300)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>