حدیدہ ہوائی اڈہ قانون کے قبضہ میں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: اتوار, 17 جون, 2018
0

حدیدہ ہوائی اڈہ قانون کے قبضہ میں

صنعا کے اندر گریفتھ کی طرف سے بندرگاہ حوالہ کرکے حوثیوں کو قائل کرنے کی آخری کوشش

صنعاء/حديدة/تعز: "الشرق الاوسط” – رياض: نايف الرشيد – جدة: اسماء الغابري

         قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد فورسز کی طرف سے مدد کردہ مشترکہ یمن کی فورسز نے ان شہریوں کو پار کرنے کے لیے پرامن گذرگاہ کو کھول دیا ہے جنہیں حوثی میلیشیاؤں نے حدیدہ ہوائی اڈہ کے مغرب میں گھیر کر انسانی ڈھال بنا رکھا تھا جبکہ ہوائی اڈہ کے ارد گرد کے علاقہ کو پرامن بنانے اور بارود کو نکالنے کی کاروائی شروع ہو چکی ہے اور اس کے مقابلہ میں مشرق کی جانب سے شہر کو گھیرنے اور بندرگاہ کی جانب سمندر کے کنارے پیش رفت کرنے کی کاروائی بھی شروع ہو چکی ہے۔

       یمن کی طرف بھیجے گئے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر مارٹن گریفتھ کے صنعاء پہنچنے کے ساتھ ساتھ میدانی پیش رفت سے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ حدیدہ سے نکل جانے اور اس کے بندرگاہ کو حوالہ کرنے کے ذریعہ حوثیوں کو قانع کرنے کی آخری کوشش ہے اور اسی کے ساتھ ان کو زبردست سکشت سے قبل بندرگاہ کو برباد کرنے سے ڈرایا بھی ہے لیکن ان کی یہ کوشش رائگاں ہو گئی جب ملیشیاؤں کے رہنماؤں نے اسے مسترد کر دیا۔(۔۔۔)

اتوار – 03 شوال المکرم 1439 ہجری – 17 جون 2018ء شمارہ نمبر:  (14345)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>