ترکی اردوگان کے اقتدار میں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 25 جون, 2018
0

ترکی اردوگان کے اقتدار میں

حزب اختلاف کی طرف سے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے سلسلہ میں شک وشبہ کا اندیشہ اور پارلیمنٹ میں پارٹی کی واپسی

انقرہ: سعيد عبد الرازق اسطنبول: ثائر عباس

         کل وقت سے قبل ہونے والے صدارتی اور آئینی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق ایسا لگا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے صدارتی انتخابات کے پہلے مقابلہ میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔(۔۔۔)

       سرکاری اناضول نیوز ایجنسی نے بتایا کہ ووٹ باکس کے 90 فیصد ووٹ شمار کرنے کے بعد اردوگان نے 54 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے قریب ترین حریف جمہوریہ پارٹی کے امیدوار محرم اينجه نے 30.3 فیصد ووٹوں وصول کیے ہیں لیکن اينجه اور ان کی پارٹی نے ایجنسی کی طرف سے اعلان کردہ نتائج کے سلسلہ میں سوال کھڑا کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انتخابات دوبارہ کرائے جائیں۔

        پارلیمانی انتخابات میں حکمران جسٹس اور ڈویلپمنٹ پارٹی اور نیشنل موومنٹ پارٹی سے بنی عوام کے اتحاد نے 54.8 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔(۔۔۔) حکومت کرنے والی پارٹی کی نششتوں کی تعداد جو موجودہ پارلیمنٹ میں 550 نشست ہے ان میں 317 سے گھٹ کر 298 ہو گئی ہے اور یہ تعداد موجودہ پارلیمنٹ کی 600 نشستوں میں سے کم ہوئی ہے۔

پیر – 11 شوال المکرم 1439 ہجری – 25 جون 2018ء شمارہ نمبر:  (14354)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>