سویداء کے دیہاتوں میں شامی فورسز کا داخلہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 7 اگست, 2018
0

سویداء کے دیہاتوں میں شامی فورسز کا داخلہ

بیروت: نذیر رضا لندن: – دمشق: "الشرق الاوسط”

           کل شامی فورسز نے سویداء کے دیہاتی علاقوں میں اندر تک داخل ہونا شروع کر دیا ہے اور جھڑپوں کے علاقہ کے اندر اس کی اس کاروائی میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور ان جگہوں اور پہاڑوں میں بھی کافی پیش رفت ہوئی ہے جہاں تنظیم داعش کا کنٹرول تھا۔

         اس وسیع فوجی حملہ میں سویداء کے مشرقی دیہاتوں میں اس چھوٹے سے علاقہ کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں تنظیم داعش کا کنٹرول تھا اور تنظیم نے دو ہفتہ قبل درزی قوم کے گاؤں پر حملہ کرنے کے لئے اسی چھوٹے سے علاقہ کا استعمال کیا تھا اور اسی فوجی حملہ وجہ سے اس بات کا کا اندیشہ ہے کہ تنظیم داعش اپنے آخری حملہ میں گرفتار شدہ دیگر افراد کو پھانسی دے گا اور یہ فوجی حملہ ملک کے مغربی جنوب میں واقع حوض یرموک سے جنگجؤوں کو سویداء کے دیہاتوں کی طرف منتقل کرنے کے سلسلہ میں ہونے والے مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد ہوا ہے۔

       دوسری طرف کل انتظامیہ نے پناہگزینوں کو واپس لانے کے سلسلہ میں کام کرنے کے لئے رابطہ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کمیٹی بنانے کے اعلان کی وجہ سے شامی سوشل نیٹ ورک پر وسیع پیمانہ میں ایک ایسی خبر نے اندیشہ پیدا کر دیا ہے جس میں اس فضائی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر میجر جنرل جمیل الحسن کی طرف سے انتظامیہ کے مخالفین کو جڑ سے ختم کرنے کی دھمکی ہے جسے اس کی خونریز تاریخ کی وجہ سے بوڑھا خونریز کے لقب سے جانا جاتا ہے۔

منگل – 25 ذی قعدہ 1439 ہجری – 07 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14497)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>