عراق میں سیاسی بحران مزید سنگین اور صدر کی طرف سے ناراضگی کا اشارہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 30 اگست, 2018
0

عراق میں سیاسی بحران مزید سنگین اور صدر کی طرف سے ناراضگی کا اشارہ

تصویر میں مقتدی الصدر کو دیکھا جا سکتا ہے

بغداد: حمزہ مصطفی

          کل یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ عراق میں سیاسی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے کیونکہ نئی حکومت بنانے کے سلسلہ میں بڑی جماعت کی تشکیل کرنے میں انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت ناکام ہو چکی ہے۔

        اس وقت جب صدر فؤاد معصوم نے پیر کے دن پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس منعقد کرنے کا وقت متعین کیا تو صدری جماعت کے صدر مقتدی الصدر نے نئے عراق کی تعمیر کے لئے ایک پرسکون ناراض موقف اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔

        اسی کے ساتھ ساتھ دسیوں عراقی شہریوں نے دوسرے وقت کے لئے وزیر اعظم حیدر العبادی کو باقی رکھنے کے سلسلہ میں امریکہ کی طرف سے ہونے والی نقل وحرکت کے خلاف بغداد کے گرین علاقہ کے دروازہ کے سامنے مظاہرہ کیا ہے۔

       صدر نے کل اپنے بیان میں اپنے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے مخاطب کیا کہ اٹھو تاکہ تم اپنی بات مکمل امن وامان اور سلامتی کے ساتھ کہ سکو، اٹھو اور ایسا سلام کرو کہ فاسدین اس سے لرز جائیں، اٹھو تاکہ تم اپنی بات کہ سکو اور یہ بھی کہو کہ فرقہ پرستی، دہشت گردی، بدعنوانی اور کوٹے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور انہوں نے اشارہ کیا کہ ابھی عراق کو ایک ایسے پرامن ناراض موقف کی ضرورت ہے جس کی بنیاد میں نئے عراق کی تعمیر کا جذبہ موجزن ہو اور وہ ہر ظالم، فاسد، حد سے تجاوز کرنے والے اور گناہ گار سے دور ہو اور ان دعووں کے مقابلہ میں صدر کے مخالفین نے کہا کہ ان کے دعوے اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہیں اور یہ سب اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت بننے تک لوگ سڑک پر اتر جائیں۔

        سیاسی ذرائع نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی گفتگو میں قابض کے خلاف جنگ کرنے کے جو اشارے ملے ہیں ان کا تعلق اس امریکہ سے جوڑنا بہت ضروری ہے جو ابھی اس پر مصر ہے کہ العبادی کو دوبارہ وزیر اعظم بنایا جائے اور اس کا مطلب اس بڑی جماعت کی مدد کرنا ہے جس میں العبادی کی رہنمائی میں نصر جماعت اور صدر کی طرف سے مدد کردہ سائرون جماعت ہے اور اس کے علاوہ حکمت اور وطنیت نامی جماعت بھی شامل ہیں۔

جمعرات – 18 ذی الحجہ 1439 ہجری – 30 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14520)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>